Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

طور پر جسٹس (عدل) ٹیلی فوی گفت گو ختم ہوئی تو میں نے ۱۹۹۳ء کے شمارے دیکھنا شروع کیا۔ معلوم ہوا کہ جڑنے کی طور پر یا بالواسطہ انداز میں تو عدل و انصاف کی بات ہر پر چہ میں ہوتی ہے۔ اور جنوری ۱۹۹۴ء کے شمار میں ’’اسلام میں عدل‘‘ کے عنوان سے ۲۲ صفحہ کا ایک مفصل مقالہ چھپ چکا ہے ۔ نیز یہ مضمون انگریزی الرسالہ میں بھی مکمل طور پر چھپا ہے ۔ آدھ گھنٹہ کے بعد میں نے دوبارہ انہیں ٹیلیفون کر کے بتایا ۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ فوراً اپنا اعتراض واپس لے لیں۔ مگر انہوں نے ایک اور بات کہہ دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے نظام الدین میں درگاہ ہے۔ وہاں قبر پرستی جیسی برائی موجود ہے ۔ اس پر آپ نے الرسالہ میں کیا لکھا۔ جو لوگ اس طرح عدم اعتراتی کا مزاج رکھتے ہوں ان کو کسی بھی دلیل سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۹۴ء ایک سواری پر بیٹھتے ہوئے خیال آیا کہ بڑھاپا بھی ایک سواری ہے جو آدمی کو آگے لے جانے کے لئے آتی ہے۔ بڑھاپے کا آنا گویا موت کی سواری میں داخل ہونا ہے۔ ۷۱ سال کا ہو کر اب میں موت کی طرف جانے والی سواری میں داخل ہو چکا ہوں ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سواری مجھ کو کس صحرا یا بیابان میں لے جا کر اتارے گی۔ یکم اکتوبر ۱۹۹۴ قرآن میں ہے کہ کچھ لوگوں کو آخرت میں عذاب اکبر (الغاشیہ ۲۲) دیا جائے گا۔ اس سے یہ مستنبط ہوتا ہے کہ کچھ اور لوگ ہوں گے جن کے لئے عذاب اصغر کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی طرح قرآن میں اور بھی آیتیں ہیں جس میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ قابل گرفت لوگوں کے عذاب میں فرق ہوگا۔ میرا احساس یہ ہے کہ جو لوگ زیادہ بڑے مجرم ہوں گے وہ تو جہنم کے گڑھے میں ڈال دئے جائیں گے ۔ مگر چھوٹے مجرموں کی سزا بھی چھوٹی ہوگی۔ میرا قیاس یہ ہے کہ آخرت میں تین گروہ ہوں گے ــــ جہنمی ، جنتی اور غیر جنتی ۔ یہ تیسرا گروہ وہ ہے جس کو نہ جنت میں داخل کیا جائے گا اور نہ جہنم میں۔ اس کو حسرت کی زندگی گزارنے کے لئے یو نہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page