آغازِ کلام
Urdu book, p. 343
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑ دیا جائے گا۔ ۲ اکتوبر کو میں بمبئی میں تھا۔ آج شام کو الرسالہ کے ایک ہمدرد نے ایک ہوٹل میں ایک میٹنگ رکھی۔ اس میں سب تعلیم یافتہ حضرات شریک تھے۔ اجتماع میں دو عالم بھی موجود تھے۔ میں ازراہ اخلاق دونوں کو اسٹیج پر بٹھالیا۔ میری تقریر کے بعد ایک عالم تو خاموش رہے، دوسرے عالم نے کھڑے ہوکر میرے خلاف تقریر شروع کر دی۔ یہ ایک بے ربط تقریر تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ تاہم مجھے ان کی تنقید پر کوئی احساس نہیں ہوا۔ البتہ یہ بات میرے لئے بہت زیادہ تعجب کی تھی کہ یہ لوگ آداب مجلس سے بھی واقف نہیں۔ یہ آداب مجلس میں سے ہے کہ آدمی اگر اسٹیج پر بیٹھے تو وہ اسٹیج کے خلاف نہ بولے۔ اور اگر اس کو اسٹیج کے خلاف بولنا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ سامعین کے درمیان آکر بیٹھے۔ ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ ۲۹ ستمبر کے تحت جناب شفیع الدین ایم اے کی ایک گفت گو نقل کی گئی ہے۔ اب انھوں نے دوبارہ ٹیلیفون کیا۔ انھوں نے کہا کہ میں نے الرسالہ کا مذکورہ شمارہ پڑھا۔ مگر وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام کس طرح عدل و قائم کرتا ہے۔ جبکہ میرا مدعا یہ ہے کہ عدل حاصل کرنے کے لئے اسلام میں کیا طریقہ بتایا گیا ہے۔ ہندوستان میں ہم receiving end پر ہیں۔ پھر یہاں ہم کس طرح عدل و انصاف حاصل کریں۔ میں نے کہا کہ اس موضوع پر تو اور بھی مضامین الرسالہ میں ہوتے ہیں۔ بلکہ الرسالہ کا خاص مقصد ہی مسلمانوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ اس دنیا میں کس طرح اپنا جائز حق حاصل کرسکتے ہیں۔ الرسالہ میں اس کا راز حکمت و تدبیر بتایا جا رہا ہے۔ آپ جیسے لوگوں کے ذہن پر دھینگا مشتی والا طریقہ چھایا ہوا ہے، اس لئے الرسالہ میں یہ بات آپ کو دکھائی نہیں دیتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader