Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

دس دن میرے ساتھ رہے وہ Hinduism in daily life کے نام سے ۳۰۰ صفحہ کی ایک کتاب مختلف زبانوں میں چھپوا رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ آپ بھی ایک کتاب کے نام سے Islam in daily life ۳۰۰ صفحہ کی تیار کیجئے ۔ اس کو ہم دس زبانوں میں چھاپ کر ساری دنیا میں پھیلائیں گے۔ ان صاحب کے مراکز ۷۲ مغربی ملکوں میں قائم ہیں۔ یکم مارچ ۱۹۹۳ آج رات کو ایک عجیب خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں سوامی چیدانند کے آشرم دہلی دہلی کے باہر ہوں۔ وہاں ایک چار پائی بچھٹی ہوئی ہے۔ اس پر میں اور سوامی جی اور ان کے دو شاگرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ اتنے میں ایک لڑکا آتا ہے۔ وہ چار پائی کے پاس کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ یہاں گونگا کون ہے۔ میں چپ رہا۔ سوامی جی نے جواب دیا کہ یہاں کوئی گونگا نہیں ۔ لڑکا بار بار یہی سوال کرتا ہے اور سوامی جی بار بار یہی کہتے ہیں کہ یہاں کوئی گونگا آدمی نہیں۔ اس کی تعبیر غالباً یہ ہے کہ ایک شخص جس کو اب تک آنند والا مذہب ملا ہوا تھا، اب اس کو غم والا مذہب ملے گا۔ ایک شخص جو بولنے والا مذہب پالے ہوئے تھا، اب اس کو ایسا مذہب ملنے والا ہے جس کے بعد وہ محسوس کرے گا کہ میں تو گونگا ہو گیا ہوں۔ سوامی جی نے غالباً حال کے اعتبار سے جواب دیا ، اور لڑکا مستقبل کے اعتبار سے ہونے والے واقعہ کی پیشگی خبر دے رہا تھا۔ ۲ مارچ ۱۹۹۳ مکہ کے عربی ہفت روزہ العالم الاسلامی کا شمارہ ۲۱ فروری ۱۹۹۳ دیکھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک سرخی ہے : اسلام ۱۵۱۸ فی السعودية ۔ یعنی سعودی عرب میں ۵۱۸ لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ خبر میں بتایا گیا ہے کہ ان نومسلموں میں فلپین، سری لنکا، انڈیا، تھائی لینڈ، امریکہ، مصر، اریٹیریا کے لوگ شامل ہیں۔ انھوں نے شیخ عبدالعزیز بن باز کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ اس طرح قبولِ اسلام کی خبریں برابر اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ مگر اس کی وجہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page