آغازِ کلام
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا میں اسلام کی حالت میں کوئی قابلِ ذکر فرق پیدا نہیں ہورہا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر نچلے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ اوپر کے طبقہ میں اسلام کو پھیلایا جائے۔ جب تک اوپر کا طبقہ اسلام قبول نہ کرے حالات میں کوئی تبدیلی آنے والی نہیں۔ ۴ مارچ ۱۹۹۳ ہندوستان ٹائمنس (۳ مارچ) میں ایرک گانس لویز (Eric Gonsalves) کا آرٹیکل چھپا ہے۔ موصوف اس سے پہلے منسٹری آف ایکسٹرنل افیریس میں سیکریٹری کے عہدہ پر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے شکوہ کیا ہے کہ انڈیا کی عالمی تصویر اچھی نہیں۔ اور اس کا حل یہ بتایا ہے کہ انڈیا کو دوسرے ملکوں سے دو طرفہ بنیاد پر اپنے مسائل حل کرنا چاہئے۔ Bilateral solutions are the best solutions. یہ محض کہنے کی ایک بات ہے۔ دو طرفہ بنیاد پر صرف چھوٹے چھوٹے معاملات طے کئے جاسکتے ہیں۔ بڑے معاملات جن پر قوموں کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے وہ کبھی دو طرفہ بنیاد پر نہیں ہوتے۔ ایسے معاملات میں اس اعلیٰ حوصلگی کی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی وقت یا قریبی مفاد کو نظر انداز کر کے یک طرفہ طور پر معاملہ کو ختم کر سکے۔ اس معاملہ میں زیادہ صحیح اصول یہ ہے کہ: Unilateral settlement is the best settlement. ۴ مارچ ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ آپ موجودہ مسلم لیڈروں کے خلاف لکھتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ انھوں نے بھی ایک کام کیا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو جگایا ہے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کی بات میں ایک لفظ کی ترمیم کروں گا۔ ان مسلم لیڈروں نے مسلمانوں کو جگایا نہیں ہے، انھوں نے مسلمانوں کو بھڑکایا ہے۔ عجیب معاملہ ہے کہ یہی بات ہندو حلقہ میں بھی کہی جاتی ہے۔ ہندو دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوسویا ہوا تھا، آڈوانی اور جوشی جیسے لیڈروں کا یہ کارنامہ ہے کہ انھوں نے ہندوؤں کو جگا دیا۔ متحیّر یہاں بھی وہی بات ہے۔ ان انتہا پسند لیڈروں نے ہندو قوم کو جگایا نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader