آغازِ کلام
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، انھوں نے ہند و قوم کو بھڑکادیا ہے۔ جس دیش کا یہ حال ہو کہ وہاں کے لوگ جگانے اور بھڑکانے کا فرق نہ سمجھتے ہوں وہ دیش ترقی کس طرح کرے گا، اس سوال کا جواب مجھے نہیں معلوم۔ ۵ مارچ ۱۹۹۳ دورِ اول کے مسلمانوں نے رومن ایمپائر سے لڑ کر اس کا خاتمہ کیا۔ مسلم مصنفین کی کتابوں میں اس واقعہ کو پڑھا جائے تو ہاں یہ لکھا ہوا ملے گا کہ شر کے اوپر خیر کی فتح تھی۔ مگر مشہور انگلش مورخ ایڈورڈ گبن (۷۲۹ ۱ - ۳۷ ۱ ) نے لکھا ہے کہ رومن ایمپائر کا سقوط دراصل وحشت اور مذہب کی جیت تھی: The triumph of barbarism and religion. یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کس طرح ایک ہی واقعہ کی دو مختلف انداز سے توجیہہ کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر قیامت نہ آئے تو اس دنیا کی ہر بات لوگوں کے لئے لامعلوم رہ جائے گی۔ ۶ مارچ ۱۹۹۳ ایک انگریزی کتاب میں ایک مقولہ پڑھا۔ اس میں حوالہ نہیں لکھا تھا۔ مگر بات نہایت درست تھی۔ وہ یہ کہ خدا فخر پسند کی مخالفت کرتا ہے اور متواضع کو اپنی رحمت عطا کرتا ہے: God opposes the proud, but gives grace to the humble. ۷ مارچ ۱۹۹۳ سنڈے آبزرور (۷ مارچ) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک ذمہ دار نے اعتراف کیا کہ ۶ دسمبر کو اجودھیا میں جو کچھ کیا گیا اس سے ملک کے باہر اور ملک کے اندر دونوں جگہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تصویر خراب ہوئی ہے۔ اس نے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader