آغازِ کلام
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
چنانچہ اس واقعہ کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کا ایک وفد مسٹر سکندر رخت کی قیادت میں باہر بھیجا گیا ۔ اس نے امریکہ، برطانیہ ، جرمنی اور کناڈا کا دورہ کیا اور وہاں کے ذمہ داروں سے مل کر صفائی پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کے مختلف اسباب ہیں جن کی بنا پر میرا خیال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب ایودھیا کے بعد کسی دوسری مسجد کا مسئلہ نہیں چھیڑے گی۔ کیوں کہ انھوں نے اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے ایسا کیا تھا۔ جب کہ عملی نتیجہ یہ نکلا کہ بابری مسجد کو ڈھانے کے بعد ان کی مقبولیت گھٹ گئی۔ ۸ مارچ ۱۹۹۳ ایک صاحب نے صبر کے اصول پر اعتراض کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا اعتراض اس لئے ہے کہ صبر آپ کو انفعالیت یا بے عملی دکھائی دیتا ہے۔ حالانکہ صبر سب سے بڑا عمل ہے ۔ میں نے کہا کہ __________ کسی صورتحال کا ایموشنل ریسپانس (emotional response) دینا بے صبری ہے۔ اور صورتحال کا سوچا سمجھا ریسپانس (considered response) دینا صبر۔ اس اعتبار سے دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ صبر اعلیٰ ترین دانشمندی اور اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ ۹ مارچ ۱۹۹۳ لاہور کے اخبار نوائے وقت (یکم مارچ ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے ایک خطاب کی رپورٹ ہے جو انھوں نے سینٹ کے اجلاس سے کیا تھا۔ انہوں نے کہا : " پاکستان کا شمار شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا کے بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔ ہماری درس گاہیں اور یونیورسٹیاں کتابوں کے بجائے اسلحے سے بھر گئی ہیں۔ اگر کسی کو کلاشنکوف کلچر دیکھنا ہو تو وہ یہاں کے یونیورسٹی کیمپس میں چلا جائے۔ ایک طرف پاکستان میں تعلیم کی یہ حالت ہے۔ دوسری طرف وہاں کے تمام نام نہاد لیڈر ۴۵ سال سے اسلامی قانون کے نفاذ کی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ مذکورہ حالت میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader