آغازِ کلام
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
میں اسلامی قانون کا مطالبہ کرنا سراسر مضمہ خیز ہے۔ موجودہ حالت میں سب سے پہلے اسلام مسلمانوں کی جہالت کو دور کرنا ہے نہ کہ ان کے اوپر قبل از وقت شریعت کے نفاذ کی بے فائدہ مہم چلانا۔ اس قسم کی تحریک لیڈری ہے نہ کہ اصلاح۔ ۱۰/ مارچ ۱۹۹۳ ایک ہندو لیڈر سے بات ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دیش سے پیار نہیں یہی ہندو مسلم جھگڑے کا اصل سبب ہے۔ میں نے کہا کہ دیکھیئے ۔ پیار دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو بیوپاری کو اپنے گاہک کے ساتھ ہوتا ہے۔ دوسرا وہ جو ماں کو اپنے بیٹے سے ہوتا ہے۔ آپ نے کبھی کسی بیو پاری کو اپنے گاہک کے لئے روتے ہوئے نہیں دیکھا ہوگا۔ مگر ماں اپنے بیٹے کے لئے روتی ہے۔ یہ فرق ہے دونوں کے پیار میں۔ پھر میں نے کہا کہ مجھے یقین نہیں کہ آپ جیسے لیڈر کبھی دیش کے لئے روتے ہوں گے۔ مگر میرا حال ہے کہ میں دیش کی خاطر اتنا زیادہ رویا ہوں کہ اگر میرے آنسوؤں کو اکٹھا کیا جائے تو وہ میرے اور آپ دونوں کے اسنان کے لئے کافی ہو۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ مجھ کو دیش سے کتنا زیادہ پیار ہے۔ پھر بھی میں کہتا ہوں کہ آپ لوگ ہندو تو کے نام سے جو آندولن چلا رہے ہیں وہ دیش کے انٹرسٹ میں نہیں ہے۔ یہ آندولن اگر اسی طرح جاری رہا تو وہ دیش کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔ ۱۱ مارچ ۱۹۹۳ کالی مسجد میں فجر کی نماز پڑھ کر نکلا تو ایک صاحب میرے ساتھ چلنے لگے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اور میرے کچھ ساتھیوں نے ایک خط لکھ کر آپ کے دفتر میں دیا تھا، کیا وہ آپ تک پہنچا۔ میں نے پوچھا کہ اس خط میں کیا بات تھی۔ انھوں نے کہا کہ باہر کی مسجد کے مسئلہ پر وہ خط تھا۔ مگر ہم نے اس پر اپنا نام نہیں لکھا تھا۔ میں نے کہا کہ جن خطوط پر مکتوب نگار کا نام نہ ہو ان کو میں نہیں پڑھتا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا کیوں ۔ آپ کو پڑھنا چاہئے ۔ میں نے کہا کہ بہر حال میرا مسلک یہی ہے ۔ کیوں کہ تحریر لکھنے والا جب اس میں اپنے آپ کو اتنا بھی شامل نہیں کرنا چاہتا کہ وہ اس پر اپنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader