آغازِ کلام
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
نام لکھے تو ایسی تحریر کو میں کیوں پڑھوں۔ میری زبان سے ’مسلک‘ کا لفظ سن کر انہوں نے کہا کہ یہ کون سی مسلک کی بات ہے۔ مسلک تو حنفی، شافعی وغیرہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد میں نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا۔ تعجب ہے کہ جو لوگ ’مسلک‘ کے معنی بھی نہیں جانتے وہ ملی مسائل پر بے محابا تبصرہ کرتے ہیں۔ اس قسم کا مزاج ملی ہمدردی نہیں ہے بلکہ سرکشی ہے۔ ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ جناب رحمٰن نیر صاحب سہارن پور گئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد ایک روز مسلم علاقہ کی ایک دکان میں کسی نے آگ لگا دی ۔ عام حالات میں اس طرح کے واقعات پر ہندو مسلم فساد شروع ہو جاتا تھا۔ کیوں کہ اس کے بعد مسلمان ہندو کی دکانوں کو جلاتے ۔ پھر ہندو اور بھی بڑے پیمانہ پر مسلمانوں کو مارتے اور لوٹتے ۔ یہاں تک کہ پورا شہر تباہ کر دیا جاتا۔ مگر اس بار ایسا ہو کر صبح کے وقت جب لوگوں نے دکان میں آگ لگنے کے واقعہ کو دیکھا تو فوراً طے کیا کہ یہ نہیں کہنا ہے کہ ہندو ؤں نے آگ لگائی ہے۔ انھوں نے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت یہ مشہور کیا کہ یہ بجلی سے لگنے والی آگ ہے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگ گئی۔ اس کا نام دانش مندی ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے واقعہ نے پہلی بار مسلمانوں کو یہ دانشمندی سکھائی ہے۔ اس دنیا میں چھوٹا شر لازماً پیش آتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ چھوٹے شر پر راضی ہو جائے تا کہ وہ بڑے شر سے بچ سکے۔ اس دنیا میں ”ایک دکان“ کے جلنے کو بہر حال برداشت کرنا ہے۔ یہی برداشت واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ بقیہ ہزاروں دکانوں کو جلنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ۱۳ مارچ ۱۹۹۳ آج ۱۸ واں روزہ ہے ۔ صبح کو فجر کی نماز کے بعد اچانک ذہن میں آیا کہ ۱۹۹۳ کے مسلم کش فساد سے لیکر ۱۹۹۳ کے بھیانک فسادات تک جس طرح ہندوستانی مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے اور تباہ کیا جا رہا ہے، وہ کسی انسان کے بس کی چیز نہیں۔ یہ یقیناً خدا کی طرف سے ہے۔ اور وہ صرف اس لیے ہے کہ مسلمان چپ ہو جائیں۔ اس کو ایک قسم کا آپریشن سائنس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader