آغازِ کلام
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
(operation silence) کہا جا سکتا ہے۔ مسلمانوں کا چپ ہونا دعوت کے مواقع کا کھلنا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کی پر فخر نفسیات اس میں مانع تھی کہ ان کو دلیل کے ذریعہ چپ کیا جا سکے۔ اس لئے خدا نے طاقت کے درمیان کو چپ کرنے کا انتظام فرمایا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد بمبئی ، سورت ، وغیرہ میں ہونے والے بھیانک فسادات کے بعد مسلمان کافی حد تک چپ کی روش اختیار کر چکے ہیں۔ تاہم ابھی وہ مکمل طور پر چپ نہیں ہوئے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو آخری طور پر اور پورے طور پر چپ کرنے کے لئے یہ ہوگا کہ اگلے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی ملے گی، وہ کئی ریاستوں میں اور سنٹر میں اپنی حکومت بنا لے گی۔ اس کے بعد مسلمان مکمل طور پر چپ ہو جائیں گے۔ اور پھر اسلام کی دعوت واشاعت کا عمل بھی یہاں تیزی کے ساتھ جاری ہو جائے گا۔ ۱۴ مارچ ۱۹۹۳ میں دہلی میں اپنی رہائش گاہ کی چھت کے بارجہ پر تھا۔ سامنے کی سڑک پر ایک نوجوان چلتا ہوا نظر آیا ۔ اچانک خیال ہوا کہ اس نوجوان کا سڑک پر چلنا کوئی سادہ واقعہ نہیں۔ یہ ایک عظیم واقعہ ہے۔ آدمی اس بارے میں سوچے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ وہ حمد خداوندی کے احساس میں سرشار ہو جائے۔ زمین کی سطح پر چلنے کے لئے اس نوجوان کو زمین کی کشش درکار ہے جو پیشگی طور پر وہاں موجود ہے۔ ضرورت ہے کہ ہر قدم پر اس کو آکسیجن مل رہی ہو اور وہ بھی ہوا کے ذریعہ مسلسل اس کو پہنچائی جارہی ہو۔ پھر ضرورت ہے کہ اس کے سامنے روشنی ہو تاکہ وہ اپنے راستہ کو دیکھ سکے۔ سورج یہ کام بہت بڑے پیمانہ پر مفت انجام دے رہا ہے۔ وغیرہ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے نوجوان کو چلتے ہوئے دیکھ کر میں اپنے لئے ایک ربانی خوراک حاصل کر رہا ہوں۔ پھر سوچتے ہوئے خیال آیا کہ یہی شاید وہ چیز ہے جس کو قرآن میں رزق رب کہا گیا ہے۔ رزق کی ایک قسم وہ ہے جس کو مادی رزق کہا جا سکتا ہے۔ آدمی اناج ، سبزی ، پھل وغیرہ کھا کر یہ رزق اپنے لئے حاصل کرتا ہے۔ اور دوسرا روحانی رزق ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader