Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

اس رزق کو آدمی بذریعہ حواس پاتا ہے۔ یعنی دیکھ کر ، سن کر ، پڑھ کر اور سوچ کر اسے حاصل کرتا ہے۔ اسی دوسرے رزق کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ ہیں کہ ورزق ربك خير وابقي۔ ۱۵ مارچ ۱۹۹۳ نانی پالکی والا انڈیا کے مشہور قانون داں ہیں۔ وہ معاشیات کے بھی ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ دہلی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنس کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں انھوں نے تقریر کی۔ انڈیا کے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انڈیا کے موجودہ (۹۳ - ۱۹۹۳) میں تعلیم پر خرچ صرف تین فیصد رکھا گیا ہے۔ جب کہ سنگاپور کے موجودہ بجٹ میں تعلیم کا خرچ ۱۸٫۵ فیصد ہے۔ اور جنوبی کوریا کے موجودہ بجٹ میں تعلیم کا خرچ ۱۹ فیصد ہے (قومی آواز ۱۰ مارچ ۱۹۹۳) اکثر مبصرین اسی قسم کی بات کرتے ہیں۔ مگر زیادہ غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے بجٹ میں تعلیم کے لئے جتنی رقم رکھی جاتی ہے ، عملی نتیجہ اس سے بہت کم حاصل ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ زیادہ اہم مسئلہ رقم کی کمی نہیں ہے بلکہ کیریکٹر کی کمی کا ہے۔ ہمارے یہاں بھرشٹاچار، اور کرپشن ہر شعبہ میں آخری حد تک گھس گیا ہے۔ اس کی موجودگی میں ہر رقم ناکافی ہے۔ ایسی حالت میں رقم میں اضافہ صرف کرپشن میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ اس کی کھلی ہوئی مثال ڈیفنس بجٹ ہے۔ ڈیفنس بجٹ میں غیر معمولی اضافنے ڈیفنس کے شعبوں میں اتنا زیادہ اضافہ کہ ڈیفنس منسٹر اور پرائم منسٹر تک اس میں ملوث ہوگئے ، جیسا کہ بوفورس اسکینڈل سے واضح ہوتا ہے۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۳ ابوالدر دارض کی ایک روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے بارہ میں سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے لیڈ ہیں (انی اخوف ما اخاف عليكم الائمة المضلون) مسند الامام احمد ۲۴۱/۶ الائمة المضلون پہلے بھی امت کا خطرناک عنصر تھے، موجودہ زمانہ میں پریس اور میڈیا کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page