آغازِ کلام
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
ظہور نے ایسے لوگوں کے خطرہ کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ پہلے زمانہ کے دجال کی آواز صرف اس کے قریب کے لوگ سن سکتے تھے ۔ آج کا دجال جب جیتا ہے تو اس کی آواز مشرق و مغرب میں سنائی دیتی ہے۔ ۱۷ مارچ ۱۹۹۳ء لاہور کے روزنامہ وفاق (۱۰ مارچ ۱۹۹۳) میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان ہے : سیاسی جنگی حکمت عملی کا ثمرہ ـــــ فتح مکہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بنو خزاعہ اور بنو بکر کی آپس کی قبائلی جنگ میں قریش نے اپنے حلیف بنو بکر کا ساتھ دیا۔ یہ معاہدہ حدیبیہ کے خلاف تھا۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان ۸ھ میں دس ہزار صحابہ کے ساتھ مکہ پر چڑھائی کر دی اور مکہ کو فتح کر لیا۔ اس لمبے مضمون میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ دس ہزار صحابہ آئے کہاں سے۔ یہ پہلو مذکورہ مضمون میں سرے سے حذف ہے۔ اس پہلو کو شامل کیا جائے تو مضمون کا عنوان ہوگا فتح مکہ دعوتی حکمت عملی کا ثمرہ مگر اس پہلو کو حذف کرنے کے بعد اس کا عنوان بن گیا : فتح مکہ جنگی حکمت عملی کا ثمرہ۔ ۱۸ مارچ ۱۹۹۳ء لاہور کے روزنامہ وفاق (۱۰ مارچ ۱۹۹۳) کے صفحہ اول پر افغانستان کے حزب اسلامی کے سربراہ اور افغانستان کے نئے نامزد وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی وہ تقریر چھپی ہے جو انہوں نے مدینہ میں کی۔ اس تقریر کا خلاصہ اس کے اس عنوان میں ہے : غیر مسلم طاقتیں اسلام کی تباہی کے لئے متحد ہو گئی ہیں۔ یہی بات لکھنؤ کے عربی ماہنامہ البعث الاسلامی (ذوالقعدہ ۱۴۱۳ھ کے افتتاحیے میں مستقبل المسلمین فی العالم کے عنوان کے تحت ان لفظوں میں کہی گئی ہے : يبدو ان القوى المعادية بجميع قطاعاتها ومعسكرا تمواو نظمتها مكبة على ابادة المسلمين في العالم كمله (ص۳۳) آج ساری مسلم دنیا میں تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اسی قسم کی باتیں لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ سب کے سب یہ اعلان کر رہے ہیں کہ غیر اسلامی طاقتیں اسلام اور مسلمانوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader