آغازِ کلام
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
تباہی کے لئے متحد ہوگئی ہیں۔ یہ باتیں مجھے اتنی بے معنی معلوم ہوتی ہیں کہ ان کو پڑھتے ہوئے بھی مجھ کو شرم آتی ہے ۔ مجھے تعجب ہے کہ لکھنے اور بولنے والوں کو آخر اس پر شرم کیوں نہیں آتی ۔ ۲۷ جنوری ۱۹۹۲ کو کشمیر کے غلام نبی ہارون ایڈوکیٹ آئے۔ ان کے ساتھ ان کے اسٹنٹ محمد امین بھی تھے۔ دونوں نے متفقہ طور پر کہا کہ ہندوستان سے علحدگی کے بعد جو کشمیر بنے گا ، انشا اللہ وہ کشمیر ہوگا۔ میں نے کہا کہ یہ سب نادانی کی باتیں ہیں۔ اس دنیا میں کسی نظام کو بنانے میں حقائق فیصلہ کن بنتے ہیں نہ کہ کسی کی خوش فہمیاں۔ میں نے کہا کہ حقائق کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہندوستان سے علحدہ ہو کر جو آزاد کشمیر یا پاکستانی کشمیر بنے گا وہ ایک برباد کشمیر ہوگا۔ موجودہ حالات میں کشمیریوں کے لئے چوائس ہندوستانی کشمیر یا پاکستانی کشمیر میں نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی کشمیر اور برباد کشمیر میں ہے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۳ آج شام ظفر الاسلام سلمہ کے یہاں مولانا شفیق احمد ندوی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ریاض جامعۃ الملک میں استاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو اس کے بعد وہاں کے تمام سعودی، ہندوستانی، پاکستانی ہندوؤں کی سخت مذمت کرنے لگے۔ ہندوؤں کے خلاف ہینڈ بل تیار کر کے تقسیم کئے گئے ۔ سب کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کو عرب سے نکال دیا جائے۔ ۶ دسمبر کے بعد جب پہلا جمعہ آیا تو تمام مسجدوں میں امام کے خطبہ کا یہی موضوع تھا۔ شفیق صاحب نے ریاض کی جس مسجد میں نماز پڑھی وہاں امام نے اپنے آدھ گھنٹہ کے خطبہ میں ہندوؤں کو بہت زیادہ برا کہا۔ امام نے پرجوش طور پر کہا کہ گائے کٹاؤ اور بتوں کو پوجنے والوں کو جزیرہ عرب سے نکال دو اور ان کو ان کی محتاجی کی طرف لوٹا دو ( اطر دو اعبدۃ البقرۃ والاوثان من جزيرة العرب وردوهم الى فقرهم) اس کے بعد سارے ریاض میں ہر آدمی کی زبان پر یہی جملہ تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader