آغازِ کلام
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
چند دن اس قسم کی دھوم رہی۔ یہاں تک کہ ایک اسٹور میں ایک پاکستانی مسلمان گیا۔ ایک شخص کو دیکھ کر اس نے اس کا نام پوچھا۔ اس نے اپنا نام بتایا تو پاکستانی مسلمان بولا کہ اچھا ، تم ہندو ہو۔ اس کے بعد چھرا نکال کر اس کے پیٹ میں بھونک دیا۔ اس کے بعد شاہ فہد کی تقریر ریڈیو پر آئی۔ انھوں نے کہا کہ آج کل ایسی باتیں کہی جارہی ہیں جس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہو۔ اگر کسی کو کوئی شکایت ہے تو اس کو چاہئے کہ ہم سے آ کر براہ راست کہے۔ سڑکوں پر یا عوام کے درمیان اشتعال انگیز باتیں نہ پھیلائی جائیں۔ اس تقریر کے فوراً بعد ہر آدمی خاموش ہو گیا۔ اگلے جمعہ کو ائمہ نے خطبہ دیا تو ان کی زبان بالکل بدلی ہوئی تھی۔ اب صرف اخلاقی اور آخرت کی باتیں تھیں۔ اب نہ بابری مسجد کا کوئی ذکر تھا اور نہ انڈیا کے ہندوؤں کا۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۳ قرآن میں حکم دیا گیا ہے کہ زانی کو کوڑے مارو اور چور کا ہاتھ کاٹ دو، مگر تمام علماء اور فقہا استثق ہیں کہ اس حکم کا تعلق حکومت سے ہے نہ کہ عوام سے۔ ٹھیک اسی طرح جہاد کرو یا یا قتال کرو کا حکم بھی ایک قائم شدہ حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔ عام مسلمان اٹھ کر مار کاٹ کرنے لگیں تو وہ شرعی معنوں میں جہاد و قتال ہرگز نہیں ہو گا، والنوع الثالث من الفروض الكفائية ما اور تیسری قسم فرض کفایہ کی وہ ہے جس میں حاکم يشترط فيه الحاكم مثل الجهاد و اقامته کا ہونا شرط ہے، جیسے کہ جہاد اور حدود کا نفاذ (الحدود، اليد السابق، فقالة (۲۰/۳۰) موجودہ زمانہ میں کشمیر اور دوسرے بہت سے مقامات پر مسلمان حکومت کے بغیر جہاد و قتال میں مصروف ہیں۔ یہ تمام سرگرمیاں حقیقتاً سرکشی ہیں نہ کہ جہاد اسلامی۔ ۲۲ مارچ ۱۹۹۳ ایک میٹنگ میں مسٹر دہمو ہتانے کہا کہ وی پی سنگھ نے اپنی سرکار کے زمانہ میں دلتوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ سوامی چید آنند نے فوراً اس میں اضافہ کیا ، اس سے بھی زیادہ نقصان جتنا مسلمانوں نے اپنی حکومت کے زمانہ میں ہزار سال میں پہنچایا تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader