Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوؤں کے بڑے طبقہ میں اس قسم کے معاندانہ خیالات پائے جاتے ہیں۔ اس کو دور کرنے کے لئے مسلمان اب تک دفاع کا انداز اختیار کرتے رہے ہیں۔ وہ مسلم عہد حکومت کو بہتر عہد حکومت ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مگر ہندوؤں کی غلط نہی میں ایک فیصد بھی کمی نہ ہوسکی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا حل دفاع نہیں ہے بلکہ اعتراف ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صاف طور پر کہہ دیں کہ ہندوستان کے مسلم حکمران اسلام کے نمائندہ نہ تھے۔ حکمرانوں کے عمل سے اسلام کو جانچنا نہیں چاہئے بلکہ اسلام کے ذریعہ حکمرانوں کو جانچنا چاہئے۔ یہی وہ روش ہے جو ہندوؤں کے دل سے اسلام اور مسلمانوں کی نفرت کو نکال سکتی ہے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۹۳ ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ کو میں ناگپور میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ وہ مہاراشٹر کی ایس ٹریبیونل کے چیرمین ہیں جو پوری ریاست کے تمام سرکاری ملازمین کے مقدمات کی سماعت کے لئے مقریر ہے۔ اس کا صدر دفتر بمبئی میں ہے اور مہاراشٹر میں مہاشٹر کے کئی شہروں میں قائم ہیں۔ ان کا رینک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا ہے۔ ان کو تقریباً بارہ ہزار روپیہ ماہوار ملتے ہیں۔ رہائش گاہ، ایرکنڈیشڈ کار وغیرہ اس کے علاوہ ہیں۔ ۱۹۹۲ میں وہ جج کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے۔ جنوری ۱۹۹۳ سے ان کا تقرر موجودہ سرکاری عہدہ کے لئے ہوا ہے۔ گفتگو کے دوران وہ ایک گھنٹہ تک مسلمانوں کے خلاف ظلم اور تعصب کی شکایت کرتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمان ہر زمین بنا کر رکھ دئیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمتوں سے ان کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ وغیرہ۔ خمدانتھیں جو اعلیٰ عہدہ حاصل ہے اس کا شکر انھوں نے ایک بار بھی نہیں کیا۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا عام انداز ہے۔ ان کی سوچ تمام تر منفی واقعات پر مرتکز رہتی ہے۔ مثبت واقعات پر وہ کبھی غور نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے تمام مسلمان شکم کے جذبہ سے خالی ہوگئے ہیں۔ وہ صرف شکایت کے جذبہ سے بھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page