Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۲ مارچ ۱۹۹۳ کو بمبئی میں کچھ مسلمانوں نے تیرہ مقامات پر بم دھماکہ کیا۔ بڑی بڑی بلڈنگیں کھنڈر ہوگئیں۔ تین سو سے زیادہ آدمی مارے گئے۔ ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ ۱۸ مارچ کو ناگپور میں محمد حنیف صاحب اور عبد السلام صاحب سے اس پر گفت گو ہوئی۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ بہت اچھا ہوا۔ اب ہندو ٹھیک ہو جائیں گے۔ ان لوگوں نے مزید کہا کہ اب بی جے پی کا مستقبل اس ملک میں ختم ہو گیا۔ ان کے لئے اب حکومت بنانے کا کوئی چانس نہیں۔ میری رائے اس کے برعکس تھی۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کی طرف سے اس طرح بمبئی میں اور دوسرے مقامات پر بم بلاسٹ کے بعد اب تقریبا یقینی ہو گیا ہے کہ اگلے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی جیتے گی اور سنٹر میں حکومت بنائے گی۔ ۲۵ مارچ ۱۹۹۳ جماعت اسلامی ہند کے تحت ایک سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی علی گڑھ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ اکتوبر ۔ دسمبر ۱۹۸۸ میں ایک مقالہ ابن تیمیہ کے مسلک کے بارہ میں چھپا ہے۔ اس میں درج ہے کہ " خروج حسین کے بارہ میں ان کا مسلک یہ ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت کے انعقاد کے بعد کسی کے لئے بھی حکومت وقت کے خلاف خروج کرنا جائز نہیں تھا۔ وہ اصولی طور سے شورش و خروج، انقلاب و بغاوت اور تشدد آمیز طریقوں سے تبدیلی حکومت کو حرام قرار دیتے ہیں۔ کیوں کہ اس کے سبب فوائد کے بجائے نقصانات اور تعمیر کی جگہ تخریب عموماً پیدا ہوتی ہے (صفحہ ۳۸) اس اصول کو میں نے سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی پر منطبق کیا تو الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی دونوں میرے دشمن ہو گئے۔ کسی بات کو اصولی طور پر بیان کیا جائے تو لوگ غصہ نہیں ہوتے لیکن اگر اس اصول کو ان کی محبوب شخصیتوں پر چسپاں کیا جائے تو فوراً وہ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اس کا نام شخصیت پرستی ہے۔ الیسٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا (۶- ۱۲ مارچ) میں ایل کے ایڈوانی اور جے دو باشی کے انٹرویو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page