Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

چھپے ہیں۔ ایڈوانی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے نقطہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کلچرل نیشنلزم کی حمایت کرتے ہیں : We will advocate cultural nationalism مدھرے دو باشی نے اسی بات کو ان لفظوں میں کہا کہ ــــــ انڈیا میں قومی تشخص صرف ہندو ہو سکتا ہے : In India, the national identity can only be Hindu. (p. 30) مسلمان اس قسم کی باتوں کو سن کر یا پڑھ کر مشتعل ہو جاتے ہیں اور اس کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ میرے نزدیک اس کا واحد مؤثر جواب ، حضرت عمر کے الفاظ میں یہ ہے کہ اس کا کوئی جواب نہ دیا جائے ( اميتو الباطل بالصمت عنه ) ۲۷ مارچ ۱۹۹۳ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں دن بھی آتا ہے اور رات بھی۔ یہ گویا ایک جے کسی کی علامت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ اس دنیا کا خدا ایک مہربان خدا ہے۔ جب آدمی کے اوپر رات کا اندھیرا چھائے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ کیوں کہ خدا اگر رات لاتا ہے تو اسی کے ساتھ اس نے اس کا بھی لازمی انتظام کر رکھا ہے کہ رات کے بعد یہاں روشن صبح آدمی کے اوپر نمودار ہو۔ اس دنیا میں اگر ایک دن گرمی کا موسم ہے تو اس کے بعد یہاں برسات کی ٹھنڈی ہوائیں بھی اس کے ساتھ چلی آرہی ہیں ـــــ فطرت کا یہ نظام بتاتا ہے کہ یہ دنیا امیدوں کی دنیا ہے۔ یہ مایوسیوں کی دنیا نہیں۔ ۲۸ مارچ ۱۹۹۳ ایک عیسائی خاتون نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ ان کا موجودہ نام زرینہ ہے۔ وہ گل بہار پارک نئی دہلی میں رہتی ہیں۔ ان کا ٹیلی فون نمبر یہ ہے : 668568 وہ مسلمانوں کی اخلاقی حالت سے بیزار ہیں۔ مگر اسلام کی اصولی حیثیت سے متاثر ہو کر انھوں نے عیسائیت کو چھوڑا اور اسلام کو اختیار کر لیا۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ایک شخص مسلمانوں کا انکار کر سکتا ہے۔ مگر وہ اسلام کا انکار نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page