Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو ایودھیا کی بابری مسجد کو ہندوؤں کے ایک ہجوم نے ڈھا دیا تھا۔ اس کے بعد ساری مسلم دنیا میں فریادی مضامین شائع کئے گئے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ ۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ میں اس کے ایڈیٹر نے لکھا کہ اس وقت انڈیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت بڑے منصوبہ کے تحت ہو رہا ہے۔ اس کی حد بابری مسجد کو ڈھانا نہیں ہے۔ حتی کہ تین ہزار مسجدی بھی نہیں۔ اس کا آخری نشانہ یہ ہے کہ بر صغیر ہند سے اسلامی وجود کو مٹا دیا جائے: ما يحدث فى الهند اليوم هو مخطط كبير ليست نهايته هدم البابرى وحتى ثلاثة آلاف مسجد آخر تنتظر الهدم ولكن الهدف وهو الوجود الاسلامى فى القارة الهندية كلها۔ میں جب اس قسم کی باتیں پڑھتا ہوں تو مجھ کو یہ حدیث یاد آتی ہے کہ: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو بولنا نہیں آتا۔ اس کے باوجود وہ چپ رہنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ ۳۰ مارچ ۱۹۹۳ قرآن میں ہے کہ عسر کے ساتھ یسر ہوتا ہے۔ یعنی مسئلہ کے ساتھ ہمیشہ حل بھی موجود رہتا ہے۔ ایسی حالت میں زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ آگ جلاتی ہے۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ یہاں پانی ہے جس سے ہم آگ کو بجھا سکتے ہیں۔ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ جسم کو زخم لگتا ہے۔ زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ جسمانی نظام زخم کا اندمال کر دیتا ہے۔ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ اس میں دوبارہ نئی پتیاں نکل آتی ہیں۔ یہاں مسئلہ کا ہونا زیادہ بڑی بات نہیں، زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ ہر مسئلہ کے ساتھ اس کا حل بھی ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ دنیا مسائل کا مجموعہ ہے مگر اہم ترین بات یہ ہے کہ ہر مسئلے کا حل بھی پیشگی طور پر یہاں رکھ دیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page