آغازِ کلام
Urdu book, p. 51
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آپ اپنے رسالہ میں اکثر صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آخر یہ صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ اس کا جواب دینے سے پہلے میں خود آپ سے ایک سوال کرتا ہوں۔ اسلام میں پانچ وقت نماز پڑھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک شخص آپ سے کہے کہ آخر یہ پانچ وقت کی نماز کب تک، تو آپ اس کو کیا جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایسے شخص سے کہوں گا کہ نماز تو ایک عبادت ہے۔ اس کو ساری زندگی ادا کرنا ہے، یہاں تک کہ آ دمی کی موت آجائے۔ میں نے کہا کہ آپ کے سوال کے بارہ میں میرا یہی جواب ہے۔ صبر بھی ایک عبادت ہے۔ ہر آدمی کو اسے آخر وقت تک انجام دینا ہے۔ موت سے پہلے یہ حکم کسی سے رفع نہیں ہوتا۔ آدمی جس طرح نماز اللہ کے لئے پڑھتا ہے اسی طرح وہ صبر بھی اللہ کے لئے کرتا ہے۔ قرآن میں نماز کے لئے جس طرح ہے کفصلی لربك ، اسی طرح قرآن میں صبر کے لئے ہے كوَ لِ رَبِّكَ فَاصْبِرْ۔ یکم اپریل ۱۹۹۳ پہلی جنگ عظیم کے زمانہ میں جب ترکی کی عثمانی خلافت ختم ہو رہی تھی تو اس کے بچانے کے لئے برصغیر ہند میں زبردست قسم کی جذباتی تحریک شروع کی گئی۔ یہ کہا جانے لگا کہ اگر عثمانی سلطنت ختم ہوئی تو اس کے بعد ملت اسلامیہ کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی زمانہ میں شبلی نعمانی نے کہا تھا : زوال دولت عثمان زوال شرع و ملت ہے عزیز و فکر فرزند و عیال و خانماں کب تک اس کے تقریباً ۸۰ سال بعد دوبارہ یہی الفاظ اجودھیا کی بابری مسجد کے بارہ میں بولے جانے لگے۔ تمام مسلمان یہ کہنے لگے بابری مسجد ملت اسلامیہ ہند کے وجود و بقار کی علامت ہے۔ اگر بابری مسجد نہ رہی تو اس ملک میں مسلم ملت بھی باقی نہ رہے گی۔ مگر مسلمانوں کے تمام شور و غوغا کے باوجود ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھا دی گئی۔ ترکی کی عثمانی خلافت کے خاتمہ کے بعد بھی ملت اسلامیہ باقی رہی اور اجودھیا کی بابری مسجد کے خاتمہ کے بعد بھی ملت اسلامیہ باقی ہے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے موجودہ زمانہ کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader