Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 52

By Maulana Wahiduddin Khan

سلمان لیڈر ایک ایسے کام کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے جس کے لئے وہ سراسر نا اہل تھے۔ ایک ندوی ریاض کی جامعۃ الامام میں اردو شعبہ کے استاد ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو جب ایودھیا کی باہری مسجد ڈھادی گئی تو اس کے بعد آنے والے پہلے جمعہ (ا ا دسمبر) کو ریاض کی مسجدوں میں وہاں کے اماموں نے جمعہ کے خطبول میں پر جوش تقریریں کیں۔ مذکورہ ندوی نے ریاض کی جس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی اس کے امام نے اپنے خطبہ میں ۶ دسمبر کے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ہندوؤں کے بارہ میں کہا : اطر دو اعبدۃ البقرۃ والا وثان من جزیرة العرب وردوهم الى فقرهم اگالے اور بتوں کے پوجنے والوں کو جزیرہ عرب سے بھگادو اور ان کو ان کی غریبی کی طرف لوٹادو۔ چند دن اس قسم کی باتوں کا ریاض میں خوب چرچا رہا۔ ہر مجلس میں، ہر ملاقات میں لوگ یہی باتیں کر رہے تھے ۔ اس کے بعد شاہ فہد کی تقریر ٹی وی پر آئی۔ انھوں نے کسی کا نام لئے بغیر یا براہ راست اس کا حوالہ دئے بغیر کہا کہ اگر لوگوں کو کچھ شکایتیں ہیں تو وہ آکر مجھ سے اپنی شکایتیں بتائیں۔ ادھر اُدھر کا چرچا کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس تقریر کے فوراً بعد تمام لوگوں کی زبانیں بند ہوگئیں۔ اگلے جمعہ کے خطبہ میں اس کا کوئی ذکر نہ تھا۔ اماموں نے حسب معمول اخلاق اور آخرت کی باتیں کیں اور اس کے بعد تمام نمازی خاموشی سے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ میں نے کہا کہ مسلمان جس طرح سعودی عرب میں ایڈ جسٹ کر کے رہتے ہیں ، اسی طرح اگر انڈیا میں ایڈ جسٹ کر کے رہنے لگیں تو یہاں کل ان کو اسی طرح امن حاصل ہو جائے جس طرح انھیں سعودی عرب میں امن ملا ہوا ہے۔ ۳ اپریل ۱۹۹۳ ۳ اپریل کو میں بمبئی میں تھا۔ ایک صاحب جو بابری مسجد ایکشن کمیٹی میں شریک تھے، انھوں نے میرے تین نکاتی فارمولا پر تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ اس سے مسئلہ ختم ہونے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ جیسے لوگ ڈبل اسٹینڈرڈ ہیں۔ آپ بابری مسجد تحریک کو بھیڑ سے ناپتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page