Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں اور میرے فارمولا کو رزلٹ سے ناپ رہے ہیں۔ آپ کو چاہئے کہ آپ دونوں ہی رزلٹ کے پیمانہ سے ناپیں ۔ اس کے بعد آپ دونوں کے بارہ میں منصفانہ رائے قائم کر سکیں گے۔ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوۃ (۲۱ جنوری ۱۹۹۳) میں اس کے مدیر کے قلم سے ادارتی نوٹ بمبئی کے حالیہ فساد کے بارہ میں ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ گائے کو پوجنے والے ہندو ان مسلمانوں پر مجرمانہ حملے کر رہے ہیں جن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کرتے ہیں۔ (ان عباد البقر من الهنودس قاموا بحملة اجرامیة لتطهير بومبای ..... من اهلها وشعبها الذي يقول لا اله الا الله محمد رسول (الله) مسلم اخبارات در رسائل اکثر اسی قسم کی بات لکھتے رہے ہیں، مگر وہ سراسر غلط ہے ۔ ہندوؤں کو جو کچھ عناد ہے وہ مسلمانوں سے ہے نہ کہ اسلام سے ۔ اگر کوئی قوم محض کلمہ توحید کی بنا پر کسی گردہ کو ستانا چاہے تو وہ ستانے پر تتراد نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ قرآن سے ثابت ہے کہ سچے ایمان والے کبھی اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں زیر نہیں ہو سکتے۔ ۵ اپریل ۱۹۹۳ ریاض کے عربی ماہنامہ الفيصل (مارچ (۱۹۹۳) میں مصر کے ایک یہودی کے قبول اسلام کا قصہ چھپا ہے۔ اس کا نام زکی غربی تھا۔ وہ عربی زبان سے واقف تھا۔ اس نے سیرت رسول پر عربی کتابیں پڑھیں، ان سے متاثر ہو کر اس نے اپریل ۱۹۶۰ میں اسلام قبول کر لیا (صفحہ ۶۳ - ۶۵) اسی طرح اور کئی افراد نے اسلام قبول کیا ہے جو یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ مثلاً لیوپولڈ اسد اور مریم جمیلہ وغیرہ۔ ان افراد نے کسی تبلیغ کے بغیر تمام تر ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر اسلام قبول ہے۔ مسلمان عام طور پر یہودیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں ۔ وہ ان کو اسلام کا ابدی دشمن سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا پہلے انسان ہے ۔ اس کے بعد وہ یہودی یا کچھ اور ہے۔ جب کسی تبلیغ کے بغیر اتنے یہودی نے اسلام قبول کر لیا تو یقینی ہے کہ اگر تبلیغ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page