آغازِ کلام
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جاتی تو ان میں سے بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو جاتے اور عین ممکن ہے کہ اس کے بعد فلسطین کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا۔ نیشنل بک ٹرسٹ (نئی دہلی) کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ اس پر اس کے ڈائریکٹر مسٹر اروند کمار کا دستخط ہے۔ اس میں ۱۸ اپریل کی ایک میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں اس تجویز پر غور ہوگا کہ اسپرچول ریڈر (Spiritual Reader) کے نام سے ایک کتاب تیار کی جائے جوہائی اسکول کے طلبہ کو دی جاسکے۔ کتاب کا یہ نام (اسپرچول ریڈر) مجھے بہت پسند آیا۔ مذکورہ کتاب سرکاری انداز میں تیار کی جائے۔ میرا خیال ہے کہ میں اسی نام سے ایک دعوتی کتاب انشاء اللہ تیار کروں۔ اس میں اسلامی نقطہ نظر سے روحانی انسان بنانے کے مسئلے پر گفت گو کی گئی ہو۔ ۷ اپریل ۱۹۹۳ دہلی کے مسٹر ششی بھوشن (66071 Tel) نے بتایا کہ یکم اپریل ۱۹۹۳ کو رام نومی کا جلوس دہلی میں نکلا۔ وہ ترکمانی گیٹ پر پہنچا جو مسلمانوں کا علاقہ ہے۔ وہاں جلوس میں شامل ہندو نو جوان اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔ مثلاً : جب کٹوے کاٹے جائیں گے وہ رام رام چلائیں گے جلوس والے اپنے ہاتھ میں ہاکی اور ڈنڈے سے لئے ہوئے تھے۔ بظاہر وہ مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتے تھے۔ شاید ان کا خیال تھا کہ مسلمان مشتعل ہوکر کوئی جارحانہ کارروائی کریں گے پھر انہیں فساد کرنے کا موقع مل جائے گا۔ مگر مسٹر ششی بھوشن نے دیکھا کہ مسلمان اس قسم کے نعروں کو سن کر مسکرا رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلوس ختم ہوگیا اور کوئی فساد نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فساد کوروکنے کا یہی سب سے زیادہ کارگر طریقہ ہے۔ یعنی اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہونا۔ جو فساد ایک مسکراہٹ سے ٹل سکتا ہو اس پر غصہ ہونے اور ٹکرائو کرنے کی کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader