Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

کے آر ملکانی (وائس پریذیڈنٹ بھارتیہ جنتا پارٹی) کا ایک مضمون ٹائمز آف انڈیا (۸ فروری ۱۹۹۳) میں چھپا تھا۔ اس کے جواب میں میرا ایک مضمون اسی اخبار کے شمارہ ۲۵ مارچ ۱۹۹۳) میں شائع ہوا۔ اب آج کے ٹائمز آف انڈیا میں مسٹر ملکانی کا ایک خط چھپا ہے جس میں انھوں نے دوبارہ میرا جواب دیا ہے۔ مسٹر ملکانی نے کامن سول لا (Common Civil Law) کی حمایت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ۔ اس کے علاوہ مسلم قانون ہند وسماج پر بھی مضراثرات ڈالنے کا سبب بن رہا ہے۔ ایسے واقعات ہیں کہ ہندوؤں نے صرف اس لیے اسلام قبول کر لیا تاکہ وہ اپنے لئے دوسری بیوی حاصل کر سکیں : Besides, the Muslim law is not without its adverse effect on Hindu society. There have been cases of Hindus embracing Islam just to take a second wife. مسٹر ملکانی کا یہ بیان بتاتا ہے کہ کامن سول کوڈ کے لئے ہندو صاحبان کا اتنا زیادہ اصرار کیوں ہے۔ اس میں انھیں یہ خطرہ نظر آتا ہے کہ بہت سے ہندو صرف ازدواجی مقصد کے تحت اسلام قبول کر لیں گے۔ کیوں کہ دوسری بیوی کی اجازت ہندو قانون میں نہیں۔ جب کہ اسلامی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ ۱۹ اپریل ۱۹۹۳ تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے کسی قدر پر فخر لہجہ میں کہا کہ ہم نے دس آدمیوں کی ایک جماعت قیامت تک کے لئے نکالی ہے۔ وہ پیدل چلتی رہے گی۔ ان میں سے کوئی آدمی جب کم ہوگا تو دوسرا آدمی ان کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔ اس طرح وہ قیامت تک چلتی رہے گی۔ مجھے یہ بات لغو معلوم ہوئی۔ اس پر گفت گو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تبلیغی جماعت کا کام ایک مفید کام ہے۔ مگر وہ عوام کی اصلاح کا ایک کام ہے۔ اس طرح کا کام قیامت تک بھی چلتا رہے تو اس سے اسلام کی نئی تاریخ بننے والی نہیں۔ اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لئے خواص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page