Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کام کرنا ہوگا۔ مگر تبلیغی جماعت کا کام فضائل کی بنیاد پر چل رہا ہے جب کہ خواص کا معاملہ یہ ہے کہ وہ دلائل سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تبلیغ ابھی تک خواص میں نفوذ حاصل نہ کرسکی۔ میری یہ بات تبلیغ والوں کو پسند نہیں آئی۔ کیوں کہ وہ لوگ تبلیغ کو کل کام سمجھ رہے ہیں۔ اس وقت جناب ثناء اللہ کشمیری بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ ذہین ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ تبلیغ والوں کے جانے کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ نے خواص کی بات عوام میں کہی۔ ایسا انداز اختیار کرنے سے دو نقصان ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ آدمی کے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس کے لہجہ میں خشکی آ جاتی ہے۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۳ مہاتما گاندھی کے ایک لڑکے نے اسلام قبول کر لیا۔ یہ لڑکا کچھ بگڑا گیا تھا۔ گاندھی جی کو اس بارہ میں بتا کر ان کا تاثر پوچھا گیا تو انھوں نے کہا: میں اسلام کا آ بھاری رہوں گا اگر اسلام میرے ایک بگڑے ہوئے لڑکے کو سधार دے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۳ اندر سے گائڈ (Andre Gide) ایک فرانسیسی رائٹر ہے۔ وہ ۱۸۶۹ء میں پیرس میں پیدا ہوا اور ۱۹۵۱ء میں روم میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک قول انگریزی میں اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ ہر بات کہی جا چکی ہے۔ مگر چونکہ لوگ سنتے نہیں اس لیے ہم کو دوبارہ اسے کہنا چاہئے: Everything has been said already; but as nobody listens, we must always begin again. اکثر لوگوں کا دماغ پیشگی طور پر کچھ باتوں سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ ان باتوں سے الگ ہو کر کسی بات کو سن نہیں پاتے اس لئے وہ کسی بات کو سمجھ بھی نہیں پاتے۔ کوئی اور بات ان کے شعور کا حصہ نہیں بنتی۔ ۱۱۔ ۱۲ اپریل کو میں پٹنہ میں تھا۔ ۱۲ اپریل کی شام کو جب میں وہاں سے روانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page