آغازِ کلام
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا تو کچھ مسلمان جو میری آخری مجلس میں اکٹھا ہو گئے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے آپ کی نصیحت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری نصیحت یہ ہے کہ ہندو سے محبت کیجئے، ہندو کی بھلائی کے لئے دعا کیجئے، ہندو کو آپ نے بٹوارہ کرکے غصہ دلایا ہے، اس لئے اگر آپ کو محسوس ہو کہ ہندو کوئی زیادتی کر رہا ہے تب بھی اس کو نظر انداز کر دیجئے، یک طرفہ طور پر اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیجئے۔ یہ بات مسٹر ایم ٹی خان کے مکان پر ہوئی۔ ۱۳ اپریل ۱۹۹۳ الرابطة الاسلامية الكويتية کی طرف سے ایک عربی مجلہ منبر الحرية شائع ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ ۲۰ رجب ۱۴۱۳ھ (۲۵ جنوری ۱۹۹۳) میں صفحہ ۱۸ پر ایک مضمون ہے جو اس کے مستقل کالم شئون المسلمين في العالم کے تحت چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے : هل من معتصم۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آج ساری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ حتی کہ عورتوں کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ایک مسلم خاتون کو بے حرمتی کیا گیا تو اس نے چلا کر کہا : یا معتصماه۔ اس کے جواب میں مسلمانوں کا لشکر اس کی مدد کے لئے دوڑ پڑا۔ آج دسیوں ہزار مسلم خواتین کو بے آبرو کیا گیا ہے، پھر کیا کوئی معتصم ہے روھاقتد انتهك عرض عشرات الآلاف منهن اليوم فهل من معتصم) آجکل مسلمانوں کے تمام مجلات اسی قسم کی باتوں سے بھرے رہتے ہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ ایسے مضامین کیوں لکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کہنے میں سنجیدہ ہوں تو انھیں خود معتصم کا رول ادا کرنے کے لئے میدان عمل میں کو پڑنا چاہئے۔ اور اگر وہ کوئی عمل کرنے کے قابل اپنے کو نہیں سمجھتے تو اپنے گھر میں چپ رہ کر مسلمانوں کے حق میں دعا کریں۔ ۱۴ اپریل ۱۹۹۳ برہمن واد کے مطابق ، اونچ نیچ کا تعلق ذات سے ہے۔ بدھزم نے اس کے مقابلہ میں شخصی اوصاف پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہ اس کو بنایا جائے جو اعلیٰ شخصی صلاحیت رکھتا ہو نہ کہ وہ چھتری خاندان سے تعلق رکھتا ہو۔ اسی طرح نہ ہی پیشوائی بھی برہمن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader