Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

کا حصہ نہیں ہے بلکہ اعلیٰ اخلاقی اوصاف رکھنے والے کا حصہ ہے۔ انھوں نے برہمن ازم کے ورن کے تصور کو کمتر اخلاقی نظام (lower moral order) کہا اور اپنے تصور کو برتر اخلاقی نظام (higher moral order) بتایا۔ (3/989) چھٹی صدی عیسوی میں انڈیا کے برہمنوں نے یہاں کے راجاؤں کی مدد سے بدھزم کے خلاف زبردست تحریک چلائی۔ انھوں نے بدھستوں کو مارا۔ انھیں ملک سے بھگایا۔ ان کی عبادت گاہوں کو ڈ ڈھایا۔ ان کے ایک ایک نشان کو مٹانے کی کوشش کی (3/407) اس کا سبب یہ تھا کہ بدھزم اس ملک میں ذات کے خلاف مہم (anti-caste crusade) چلا رہا تھا۔ لیکن رزلٹ کے اعتبار سے دیکھئے تو اس کے بعد جو ہوا وہ یہ کہ بدھزم انڈیا سے نکل کر ایک عالمی مذہب بن گیا۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۳ بھارتیہ جنتا پارٹی اور وشو ہند و پرشد کی قیادت میں دو لاکھ ہندو ایودھیا میں جمع ہوئے ۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو انھوں نے بابری مسجد کو ڈھادیا ۔ اس کی ایک ایک اینٹ اٹھا لے گئے ۔ اور اس کی جگہ پر ایک عارضی مندر بنا دیا جہاں روز انہ درشن اور پو جا ہورہی ہے۔ مسلمانوں کا عام طور پر کہنا ہے کہ ہندوؤں کی جماعتیں ، یوپی کی ریاستی حکومت اور خود دہلی کی مرکزی حکومت اس منصوبہ میں شریک تھی۔ سب کی ملی بھگت سے یہ کام انجام پایا ہے۔ ایسی حالت میں اگر بابری مسجد کے لئے کچھ کرنا ہے تو خود مسلمانوں کو کرنا ہے گر عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کے نام نہاد تائید ین دو بارہ حکومت کے نام مطالباتی بیانات جاری کرنے میں مشغول ہیں ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک وفد دہلی میں جمع ہوا۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۳ کو وہ وزیر اعظم نر سہماداؤ سے ملا ۔ اس کی قیادت مولانا ابو الحسن علی ندوی کر رہے تھے۔ ان لوگوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ بابری مسجد دوبارہ اس کی سابقہ جگہ پر بنائی جائے۔ میں نے کچھ مسلمانوں سے کہا کہ یہ ایک صفحکہ خیز بات ہے۔ بابری مسجد کے مسئلہ میں اب مسلمانوں کے لئے دو میں سے ایک صورت باقی رہ گئی ہے ۔ یا تو وہ صبر کر کے چپ ہو جائیں ۔ یا اقدام کر کے ایودھیا میں داخل ہوں اور جان پر کھیل کر مندر کو توڑیں اور مسجد کو دوبارہ بنائیں۔ مطالبہ اور اخباری بیان تو ایک بے معنی بات ہے ۔ مسلمانوں کے لئے یہاں دو میں سے ایک کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page