آغازِ کلام
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
آپشن (option) لینے کا موقع ہے ۔ مگر وہ تھرڈ آپشن لینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ تھرڈ آپشن ایک مسخرہ پن ہے۔ موجودہ صورت میں وہ سرے سے کوئی آپشن ہی نہیں۔ اسلام کا ایک اصول یہ ہے کہ کوئی بظاہر اچھا کام بھی اس وقت نہیں کیا جائے گا جب کہ عملی طور پر اس سے ایک برا نتیجہ نکلنے والا ہو۔ یہ اصول قرآن کی سورۂ الانعام (آیت ۱۰۸) سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس اصول کے مطابق، کشمیر اور بوسنیا میں آزادی کی تحریک اٹھانا غیر اسلامی تھا۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں جو چیز ملنے والی تھی وہ آزادی نہیں تھی بلکہ جان و مال کی غیر معمولی تباہی تھی۔ اس طرح مصر اور الجزائر میں اسلامی حکومت کی تحریک چلانا غیر اسلامی تھا۔ کیوں کہ اس تحریک سے اسلام کی حکومت قائم ہونے والی نہیں تھی بلکہ اس کا نتیجہ اس صورت میں نکلنے والا تھا کہ مسلم آبادی حکمراں طبقہ اور غیر حکمران طبقہ میں بٹ کر آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان، ہر جگہ اسلام کے نام پر ایسے کام کر رہے ہیں جو ان کے لئے (Counter productive) ثابت ہورہا ہے۔ یہ واضح طور پر اسلام کے خلاف ورزی ہے۔ جب ان کے نام نہاد اسلامی عمل کا الٹا نتیجہ سامنے آتا ہے تو اس کے بعد وہ مزید سرکشی یہ کرتے ہیں کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے واپس نہیں لوٹتے بلکہ اس کو دوسروں کا ظلم بتا کر لفظی فریاد واحتجاج میں مشغول ہوجاتے ہیں جس کا دوبارہ کوئی نتیجہ ان کے حق میں نکلنے والا نہیں۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ء آج نئی دہلی (لانستی ٹیوٹ)، میں ہندو دانش وروں کی ایک میٹنگ میں شریک ہوا۔ اس کا مقصد نیشن بلڈنگ کے سوال پر غور کرنا تھا۔ کچھ لوگوں نے یہ کہہ کر مایوسی کا اظہار کیا کہ ہمارے پاس آج گاندھی اور جے پرکاش جیسا کوئی آدمی نہیں۔ میں نے کہا کہ گاندھی اور جے پرکاش کی زندگی کے دو حصے تھے۔ گاندھی کی زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو ۱۹۳۷ء سے پہلے کا ہے۔ اس وقت انھوں نے اینٹی کرپشن تحریک چلائی۔ دوسرا حصہ وہ ہے جب کہ ملک آزاد ہو گیا اور دیش میں کانگریس کی حکومت قائم ہوگئی۔ واقع ات بتاتے ہیں کہ پہلے مرحلہ میں گاندھی کی ہر طرف دھوم تھی مگر دوسرے مرحلہ میں گاندھی تنہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader