آغازِ کلام
Urdu book, p. 60
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بے سہارا ہو کر رہ گئے ۔ یہی بات جے پرکاش کے ساتھ پیش آئی۔ انھوں نے جب اینٹی کانگریس تحریک چلائی تو ان کے ساتھ بھیڑ کی بھیڑ جمع ہو گئی۔ مگر اس کے بعد جب جنتا پارٹی کی حکومت بن گئی تو جے پرکاش لوگوں سے کٹ کر رہ گئے۔ میں نے کہا کہ موجودہ کام کا تفت اب گاندھی اور جے پرکاش کے مرحلہ اول سے نہ کھیئے بلکہ ان کے مرحلہ ثانی سے کھیئے تو آپ کو مایوسی نہیں ہوگی۔ اس سے معلوم ہو گا کہ اصل مسئلہ لیڈر کا نہ ہونا نہیں ہے بلکہ خود یہ کام ہی کٹھن ہے۔ یہ وہ کام ہے جس میں گاندھی اور جے پرکاش بھی تنہا ہو گئے تھے۔ پھر اگر ہمیں بھی اسی قسم کا تجربہ ہو تو اس پر مایوسی کی کیا ضرورت۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ عربی مجلہ الازہر (قاہرہ) کے شمارہ شوال ۱۴۱۳ھ (اپریل ۱۹۹۲) میں قبس من انوار النبوۃ‘ کے تحت نقل کیا ہے کہ بعض علماء نے کہا کہ غیبت ایک ظلم ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم نے جس آدمی کی غیبت کی ہے اس کے حق میں مغفرت کی دعا کرو۔ وقال بعض العلماء : ان الغيبة مظلمة وكفارتها الاستغفار لصاحبها (غتبته) اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت بدخواہی کے جذبہ کے تحت نکلتی ہے اور دعا خیرخواہی کے جذبہ کے تحت۔ غیبت کے بعد جب آدمی کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اس کے حق میں نیک دعا کرتا ہے تو گویا وہ بدخواہی کو خیرخواہی سے دھو رہا ہے، وہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ پاک کر رہا ہے۔ ۱۹ اپریل ۱۹۹۳ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد میوات میں مسلم اکثریت کے علاقہ میں دو درجن مندروں کو توڑا گیا۔ ایک میواتی مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ مسلمان اس دیش میں اس طرح رہنا چاہتے ہیں جیسے کہ وہ سفارت نہیں ہے بلکہ پاکستان ہے۔ اگر مسلمانوں کو اسی طرح رہنا تھا تو آخر انھوں نے پاکستان کیوں بنوایا۔ انھوں نے کہا کہ وہ تو ہمارے لڑکوں نے کیا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر لڑکوں نے کیا ، تب بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader