آغازِ کلام
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑوں پر اس کی ذمہ داری ہے۔ حدیث میں ہے کہ کل مولود یولد علی الفطرۃ فالپاہ یہود انہ و ينصرانه و يمجسانه ۔ اس حدیث کے مطابق ، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ لڑکے پیدائش کے اعتبار سے امن پسند پیدا کئے گئے تھے۔ مگر ان کے گھر اور ان کے معاشرہ نے ان کو تشدد اور نفرت میں مبتلا کر دیا۔ اس کا ایک مظاہرہ مذکورہ صورت میں پیش آیا۔ ۲۰ اپریل ۱۹۹۳ ۱۹ اپریل کو تمام اخباروں کی سب سے نمایاں خبر یہ تھی کہ صدر پاکستان غلام اسحاق خاں نے مسٹر نواز شریف کی منتخب حکومت کو ڈسمس کر دیا۔ اس کا سبب کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل پالیسی کا معاملہ نہیں تھا۔ اس کا سبب صرف ذاتی اختلاف تھا ، جیسا کہ اخباروں نے لکھا ہے۔ پاکستان کے دستور کے تحت اس کے بعد تین ماہ کے اندر نیا الیکشن ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اگلا الیکشن ۱۳ جولائی ۱۹۹۳ کو ہوگا ۔ صدر کے لئے اس قسم کا مطلق اختیار جنرل ضیاء الحق نے پاکستان کے دستور میں آٹھویں ترمیم کے ذریعہ شامل کیا تھا۔ اس کے تحت ضیاء الحق نے ۱۹۸۲ میں پاکستان کے اسلام پسند لیڈروں کی حمایت سے ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب وزارت کو ختم کیا تھا۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ میں ضیاء الحق نے محمد خاں جونیجو کی وزارت کو اچانک برخاست کر دیا۔ ۱۹۹۰ میں صدر اسحاق خاں نے نظیر بھٹو کی وزارت کو نواز شریف کی حمایت سے برخاست کیا جو اس وقت اپوزیشن میں تھے۔ اب بے نظیر کی باری تھی۔ ان کا ساتھ لے کر غلام اسحاق خاں نے نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ ہندوستان ٹائمس ۲۰ اپریل نے اپنے ایڈیٹوریل میں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دنیا کی ترقیوں سے غیر متاثر پاکستان ابھی سیاسی بدویت (political primitivism) کے دور میں ہے ۲۶ مئی ۱۹۹۳ کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے صدر اسحاق خاں کے حکم کو کالعدم قرار دیا اور اسمبلی کو اور نواز شریف حکومت کو دوبارہ بحال کر دیا۔) بابری مسجد کے کیس کے بگڑنے کی ذمہ داری تمام تر مسلمانوں کی نام نہاد قیادت پر ہے نہ کہ ہندوؤں پر۔ حقیقت یہ ہے کہ مشترک خاندان سے مشترک سماج تک ہر جگہ نزاعی مسائل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader