آغازِ کلام
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
پیدا ہوتے ہیں۔ ان نزاعات کے ساتھ خوش تدبیری کا معاملہ کیا جائے تو وہ حل ہو جائیں گے۔ اور اگر بد تدبیری کا معاملہ کیا جائے تو وہ بگڑ جائیں گے۔۔ بابری مسجد کا تالا کھلنے کے بعد ۱۹۸۶ء میں میں نے یہ تجویز رکھی کہ آر بیٹریشن (ثالثی) کے اصول پر اس کو طے کیا جائے۔ ہندو اس پر راضی تھے۔ مگر پر جوش مسلمانوں نے میری مخالفت کی۔ اس وقت سید شہاب الدین نے میرے خلاف مہم کی قیادت کی۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد ڈھادی گئی۔ ۶ دسمبر کے بعد میں نے تین نکاتی فارمولا پیش کیا۔ اس کو بھی ہندوؤں کے درمیان غیر معمولی قبولیت حاصل ہوئی۔ لیکن دوبارہ پر جوش مسلمان اس کے راستہ میں حائل ہو گئے اس بار میری مخالفت کی مہم کی قیادت مولانا ابوالحسن علی ندوی فرما رہے ہیں۔ سید شہاب الدین کی مہم نے ہندو انتہا پسندوں کو متحد کر دیا تھا۔ اب مولانا ابوالحسن ندوی کی مہم ان ہندو انتہا پسندوں کو حکومت کی کرسی تک پہنچانے کا کارنامہ انجام دے گی۔ بھاجپا کے لیڈر مرلی منوہر جوشی نے کہا ہے کہ ۱۹۸۴ء میں لوک سبھا میں ہمارے پاس صرف دو سیٹیں تھیں۔ ۱۹۹۱ء میں لوک سبھا میں ہماری سیٹ ۱۲۰ تک پہنچ گئی۔ اب اگلے الیکشن میں لوک سبھا میں ہمارے ممبروں کی تعداد ۳۷۰ ہوگی۔ ۲۲ اپریل ۱۹۹۳ ٹائمز آف انڈیا (۲۲ اپریل) میں مسٹر گری لال جین کا ایک آرٹیکل چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اگلے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ مسلم قیادت کی احمقانہ روش بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے حق میں نہایت مفید ثابت ہو رہی ہے۔ اس سلسلہ میں وہ لکھتے ہیں: As it is, Muslim leaders have been making an impossible demand on the government-construction of a mosque at the old site in Ayodhya-and thereby reinforcing the community's alienation from the Congress in disregard of the fact that in the process they are facilitating the BJP's task... With such opponents, the BJP hardly needs friends except perhaps to rescue its leaders from their own fears and complexes. (p. 10)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader