آغازِ کلام
Urdu book, p. 63
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ تبصرہ بالکل درست ہے۔ ۱۹۸۹ء کے الیکشن میں انھیں مسلم قائدین کی نادانی سے کانگریس کی جگہ جن سنگھ بر سر اقتدار آ گئی تھی۔ اب دوبارہ انھیں نام نہاد قائدین کی نادانی سے یہ ہونے والا ہے کہ کانگریس کے بجائے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار پر قابض ہو جائے۔ یہ لوگ زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ سیکولر طاقتوں کے ہاتھ مضبوط کرنا چاہئے۔ مگر عملاً وہ غیر سیکولر عناصر کو طاقت پہنچانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۳ کچھ لوگوں سے صبر کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صبر کا پہلا ذاتی فائدہ یہ ہے کہ صبر آپ کے ذہن کو ڈسٹرب ہونے سے بچاتا ہے۔ اگر آپ کے اندر صبر کا مادہ نہ ہو تو کوئی خلاف مزاج بات پیش آتے ہی آپ اشتعال ہو جائیں گے، اور جو آدمی مشتعل ہو جائے وہ فوراً ہی درست طور پر سوچنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو آدمی مشتعل نہ ہو وہ اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ پیش آمدہ معاملہ میں ایسا فیصلہ لے سکے جس میں اس کی ذہنی صلاحیت پوری طرح استعمال ہوئی ہو۔ ۲۳ اپریل ۱۹۹۳ کاشف العلوم دہنگلہ والی مسجد ، نظام الدین کے دو طالب علم ملاقات کے لئے آئے۔ ان میں سے ایک طالب علم الور (راجستھان) کے رہنے والے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے الور میں تقریباً ۱۲۰ مسجدیں تھیں ۔ ۱۹۹۲ء کے ہنگامہ میں سب کی سب مسمار کر دی گئیں۔ اب مسجد کی جگہ کہیں پارک ہے۔ کہیں دکان اور اسکول ہے۔ ایک مسجد کی بابت انھوں نے بتایا کہ اس کی عمارت میں ترمیم کر کے اس کو مندر بنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے خود اس مسجد کو دیکھا ہے۔ اسی طرح ہزاروں مسجدیں ہیں جو ۱۹۹۲ء کے ہنگامہ میں تباہ کر دی گئیں۔ ان مسجدوں کی بابت تمام علماء نے خاموشی کا طریقہ اختیار کیا۔ مولانا حسین احمد مدنی سے لے کر مولا نا ابو الحسن علی ندوی تک کسی نے بھی ان کے معاملے میں کوئی آبجیکشن نہیں چلایا۔ میں کہتا ہوں کہ بابری مسجد کے بارہ میں بھی اسی اصول کو اختیار کیا جائے ۔ اس کے سوا میرا کچھ اور کہنا نہیں ہے۔ پھر کیسے عیب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader