Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 64

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں میرے وہ مخالفین جو اس قسم کی روش کے باوجود مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کے متقدب بنے ہوتے ہیں، اور عین اسی روش بنا پر مجھ کو مطعون کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں نے اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھودیا۔ اس کے بعد ٹھیک یہی واقعہ انگریزوں کے ساتھ پیش آیا۔ انھوں نے بھی اپنے پولیٹیکل ایمپائر کو کھودیا۔ لیکن انگریز آج بھی دنیا میں باعزت جگہ حاصل کئے ہوئے ہیں جبکہ مسلمان ہر جگہ ذلیل وخوار ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انگریزوں نے اگرچہ پولیٹیکل ایمپائر کو کھویا ہاتھا مگر اس کے بعد بھی انڈسٹریل ایمپائر ان کے پاس موجود رہا۔ جب کہ مسلمان کا معاملہ یہ ہے کہ پولیٹیکل ایمپائر کھونے کے بعد انھوں نے سب کچھ کھو دیا۔ اس کے بعد کوئی اور چیز نہ تھی جس پر وہ اپنے وجود کو دوبارہ قائم کرسکیں۔ ۲۶ اپریل ۱۹۹۳ میں نے قرآن کی عربی تفسیروں کا کثرت سے مطالعہ کیا ہے۔ اب بھی برابر ان کو دیکھتا رہتا ہوں۔ مگر جب بھی میں کسی تفسیر کودیکھتا ہوں تو فوراً یہ احساس ہوتا ہے کہ پوری تاریخ میں شاید کوئی بھی تفسیر اس مقصد کے تحت نہیں لکھی گئی کہ اس کو پڑھ کر لوگوں کے اندر قرآنی ذہن بنے۔ تقریباً تمام تفسیروں کے بارہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان میں ہر چیز ہے، مگر ان میں ذہن سازی کا کوئی سامان نہیں۔ موجودہ زمانہ میں شاید پہلی بار مولانا سید ابو الاعلیٰ نے ایسی تفسیر (تفہیم القرآن) لکھی جو ذہن سازی کے انداز میں تیار کی گئی تھی۔ مگر وہ پچھلی تفسیروں سے بھی زیادہ غیر مفید بن گئی۔ کیوں کہ تفہیم القرآن نہایت غلط طور پر تاری کے اندر سیاسی طرز فکر پیدا کرتی ہے۔ اس اعتبار سے وہ تحریف القرآن ہے نہ کہ تفہیم القرآن۔ اس کے اندر کچھ مفید اجزا کا موجود ہونا اس کو صحیح تفسیر نہیں بناتا۔ اس قسم کے جزئی طور پر مفید اجزا اور توت اددیانیوں کی تفسیر میں بھی پائے جاتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page