آغازِ کلام
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
نئی دہلی کے انگریزی اخبار پائینر ( ۲۷ اپریل) میں صفحہ اول پر یہ خبر ہے کہ فائنس منسٹر من موہن سنگھ نے لوک سبھا میں بتایا کہ اجودھیا کے حادثہ (۶ دسمبر ۱۹۹۲) کے نتیجہ میں چار مہینوں کے اندر گورنمنٹ کو مالیات کی وصولی (revenue receipts) میں پانچ ہزار کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا ہے۔ اس سے پہلے قومی آواز (۲۳ اپریل ) میں بتایا گیا تھا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ سے مارچ ۱۹۹۳ تک مختلف صورتوں میں جو مالی نقصان ہوا ہے ، اس کی مجموعی مقدار بیس ہزار کروڑ روپیہ ہے۔ اس طرح کے مختلف نقصانات جو ۶ دسمبر کو بابری مسجد ڈھانے کے بعد پیش آئے ہیں وہ مانع عوامل (deterrent factors) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مانع عوامل نے اب اس کو نا ممکن بنا دیا ہے کہ بابری مسجد کے بعد کسی اور مسجد کا چیپٹر کھولا جائے ۔ اس قسم کی تخریبی سیاست کے لئے بابری مسجد کا انہدام ایک فل اسٹاپ تھا۔ تخریب کاروں نے اس کو آغاز سمجھا۔ مگر قانون فطرت نے اس کو اختتام بنا دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی نیشنل کانفرنس بنگلور میں ۱۸ - ۲۰ جون ۱۹۹۳ کو ہوئی ۔ اس میں پارٹی نے رام مندر کا ایشو ہی ختم کر دیا۔ پارٹی کا نیا نعرہ ہے ــــــــــ سماجی نشاۃ ثانیہ (social renaissance) ۲۸ اپریل ۱۹۹۳ صحیح روایت کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میری امت میں تلوار داخل ہوگی تو وہ قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی (مشکاۃ المصابیح ۲/ ۱۴۸۲) تاریخ اس پیغمبرانہ پیشین گوئی کی تصدیق کرتی ہے۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ حکومت واقتدار کو اسلام نے بطور ضرورت اختیار کیا تھا۔ بعد کے لوگوں نے نظریہ سازی کے ذریعہ حکومت واقتدار کو مقصد بنا لیا۔ اور جب حکومت واقتدار کو مقصد سمجھ لیا جائے تو اس کے بعد جنگ و جدال کا پیش آ نا لازمی ہو جاتا ہے۔ اسلام میں جنگ دفاع کے لیے ہے نہ کہ سیاسی دائرے کی توسیع کے لیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader