Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 66

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلم صحافی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں اگر دو بات ہو جائے تو اس کے بعد مسلمانوں کے مسئلہ کو حل کرنے میں دو دن کی بھی تاخیر نہیں ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ وہ دو بات کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ایک تو یہ کہ مسلمانوں کے تمام اخبارات بند کر دئے جائیں۔ دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے تمام لیڈر خاموشی اختیار کر لیں ۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی شاعری نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ وہ یہ کہ انسان کے لئے سب سے بڑی گائڈ اس کا نیچر ہوتا ہے۔ اس وقت زرد صحافت اور زر دیادت اس نیچر کو دبائے ہوئے ہے۔ یہ دونوں چیزیں ختم ہو جائیں تو اس کے بعد نیچر کو اپنا کام کرنے کا موقع مل جائے گا، اور نیچر کی رہنمائی کبھی غلط نہیں ہوتی۔ ۳۰ اپریل ۱۹۹۳ ٹائمس آف انڈیا (۳۰ اپریل) میں مسٹر بدر الدین طیب جی کا ایک مضمون چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس وقت میری عمر ۵۸ سال ہے۔ پچھلے ۲۰ سال سے میں رمضان کے روزے نہیں رکھتا اس سے پہلے میں برابر روزہ رکھتا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ۱۹۳۵ میں میں سرگودھا میں اسسٹنٹ کمشنر تھا۔ رمضان کے مہینہ میں میں اپنے انگریز ڈپٹی کمشنر جیمس ریڈ کے ساتھ دورہ پر تھا۔ اس کو معلوم ہوا کہ اس گرمی کے موسم میں میں روزہ رکھے ہوئے ہوں، اس نے طے کیا کہ وہ شام کو ۵ بجے کی چائے چھوڑ دے اور شام کو میرے ساتھ افطار میں شریک ہو: I was on tour with my deputy commissioner, James Read, an English eccentric, somewhat choleric, gentleman. Sensing that I was fasting in the rather grim summer conditions, he decided to forgo his own 5 o'clock tea breaks and join me for Iftar at sunset, hours later. I appreciated his gesture. ۱۹۳۷ سے پہلے، ہمارے علما نے انگریزوں کے خلاف اس قدر نفرت پھیلائی کہ انگریزوں کو مکمل طور پر برا سمجھنا اور ان سے نفرت رکھنا گڑیا عقیدہ کا جز بن گیا۔ میں خود نو جوانی کی عمر میں انہیں جذبات کا شکار رہا۔ حالانکہ انگریز بھی انسان تھا، اس کے اندر بھی فطرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page