آغازِ کلام
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی طرح موجود تھی جس طرح کسی دوسرے آدمی میں، ہوتی ہے۔ مسلم علما کو انگریزوں سے سیاسی اختلاف تھا۔ مگر انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ صرف ان کی سیاست پر تنقید کی جائے، نہ کہ ان کے پورے وجود کو قابل نفرت ظاہر کیا جائے۔ یکم مئی ۱۹۹۳ فرانس کے ایک بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ وہ ہر روز شکار کے لیے جایا کرتا تھا اور روزانہ کچھ نہ کچھ شکار کرتا تھا۔ ایک روز وہ کوئی جانور شکار نہ کر سکا۔ اس روز اس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ کچھ نہیں (nothing) میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے بھی دریافتوں کا شوق ہے۔ اللہ کے فضل سے ہر روز کوئی نہ کوئی نئی چیز میرے علم میں آتی ہے۔ اگر بالفرض کسی دن کوئی نئی بات میرے علم میں نہ آئے تو میں اپنی ڈائری میں فرانس کے بادشاہ کی طرح یہ نہیں لکھوں گا کہ آج کوئی شکار نہیں ملا۔ اس کے بجائے میں یہ لکھوں گا کہ آج کوئی نئی بات معلوم نہیں ہوئی۔ ۲ مئی ۱۹۹۳ پروفیسر بپن چندر (Bipin Chandra) کی ایک کتاب ۱۹۹۳ میں ہر آنند پبلی کیشنز نئی دہلی سے چھپی ہے۔ اس کا نام یہ ہے : Essays on contemporary India اس کتاب کا ایک حصہ ہندوستان ٹائمز (۲ مئی) کے سنڈے سکن میں چھپا ہے۔ اس میں وہ فرقہ واریت کے سنگین مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ فرقہ واریت کا بہتر مقابلہ اس طرح کیا جائے ہے کہ ملک کی تمام سیکولر طاقتوں کو اس کے خلاف متحد کیا جائے ۔ Communalism can best be countered by combining all the secular forces. یہ بات میں پچھلے چالیس سال سے سنتا اور پڑھتا رہا ہوں۔ یہ بات اس مفروضہ پر کہی جاتی ہے گویا کہ ابھی سیکولر طاقتوں کو فرقہ واریت کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔ حالاں کہ ۴۷۱۹ کے بعد جو قومی لیڈر حکومت پر قابض ہوئے اور آج تک قابض ہیں۔ ان سب کا یہی نظریہ تھا۔ پرسیں سے لے کر حکومت تک کی پوری طاقت فرقہ واریت کے خلاف مسلسل استعمال کی جاتی رہی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader