Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 68

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت یہ ہے کہ اصل مسئلہ سیکولر طاقتوں کو استعمال نہ کرنے کا نہیں ہے بلکہ استعمال کے با وجود نتیجہ نہ نکلنے کا ہے۔ چوں کہ اس رخ پر ساری کوشش کے با وجود مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔ اس لئے سمجھا جا رہا ہے کہ اس تصور کو استعمال بھی نہیں کیا گیا۔ ۲ مئی ۱۹۹۳ ٹائم میگزین (۳ مئی ۱۹۹۳) نے کشمیر کے بارے میں ایک رپورٹ چھاپی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے چار سال کی تحریک کے دوران ۱۲ ہزار کشمیری جوان مارے جا چکے ہیں۔ اس سے کئی گنا زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بڑی مقدار میں مال اور جائیداد کا نقصان ہوا ہے۔ مگر کشمیریوں کا مکمل آزادی (complete freedom) حاصل کرنے کا جوش ابھی تک کم نہیں ہوا۔ ساری تباہی کے باوجود آج بھی سرینگر سڑکوں پر ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے ـــــ ہم کو آزادی چاہئے: We want freedom ۱۹۸۹ میں کشمیری جنگجوؤں نے سرینگر میں پہلی بار بم مارے۔ یہاں سے کشمیر کی مسلم تحریک آزادی شروع ہوئی۔ اس سے پہلے میں کئی بار کشمیر گیا ہوں۔ ۱۹۸۹ سے پہلے وہاں مکمل امن تھا۔ مگر مکمل آزادی کے فریب نے مکمل امن کا خاتمہ کر دیا۔ کشمیر کی فضاؤں میں مجھ کو فکری بلندی اور روحانی آزادی کا سبق ملتا تھا۔ وہاں کے خوبصورت قدرتی مناظر میں ربانی غذاؤں کا اتھاہ سمندر ابلا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ فطرت کی یہ دنیا آدمی کو اتنی بڑی چیز دے رہی ہے جس کے آگے ہر دوسری چیز حقیر بن جاتی ہے۔ کشمیری اپنے ماحول سے یہ فکری غذا نہ لے سکے۔ البتہ وہ تباہ کن سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے۔ موجودہ زمانہ کے فتنوں میں سے ایک فتنہ یہ ہے کہ شیطان نے سیاسی آزادی کے بارہ میں لوگوں کو بہت زیادہ حساس بنا دیا ہے۔ کشمیر اور دنیا کے اکثر مقامات کے مسلمان سیاسی آزادی کے نام پر حکمرانوں سے لڑ رہے ہیں اور نتیجہ میں مزید تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ جب کہ عین اسی وقت ایک اور زیادہ بڑی آزادی کے مواقع پوری طرح انھیں حاصل تھے مگر ان کی بے شعوری نے ان کو اس سے محروم کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page