آغازِ کلام
Urdu book, p. 69
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کے نام پر اٹھنے والی کسی تحریک کو جانچنے کا معیار صرف ایک ہے۔ یہ کہ اس نے اپنے متاثرہ افراد کو ربانی انسان بنایا یا نہیں بنایا۔ اس اعتبار سے جب میں دیکھتا ہوں تو موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تحریکوں میں سے کوئی تحریک بھی حقیقی اسلامی تحریک دکھائی نہیں دیتی۔ ان تحریکوں کا حال یہ ہوا ہے کہ ان میں سے کسی تحریک نے اپنے متاثرہ افراد کو زندہ یا مردہ اکا دبر سے جوڑا۔ کسی نے مسلمانوں کو ان کی تاریخی عظمت میں گم کیا۔ کسی نے دوسروں کو غیر قوم کی حیثیت دے کر ان سے لڑانا بھڑانا سکھایا۔ کسی نے اسلام کو لوگوں کے لئے ایک سیاسی آئیڈیا لوجی بتایا۔ صحیح اسلام یہ ہے کہ آدمی کو اللہ کی معرفت حاصل ہو۔ اس کے اندر جواب دہی کا احساس جاگے ۔ اس کی زندگی میں عبادت اور اخلاق کی روح پیدا ہو۔ وہ اللہ کی یادوں میں جینے لگے ۔ وہ جہنم سے بھاگنے والا اور جنت کی طرف دوڑنے والا بن جائے ۔ اس کے اندر وہ شخصیت پرورش پالے جو جنت کی نفیس دنیا میں بسانے کے قابل ہو۔ ۵ مئی 1993 ایک صاحب سے میں نے گفت گو کے دوران کہا کہ رزق اس دنیا میں ہر ایک کا حق ہے اللہ تعالی نے ہر پیدا ہونے والے کے لئے یہ ذمہ لیا ہے کہ وہ اس کو سامان حیات دے۔ مگر اقتدار کا معاملہ اس سے الگ ہے۔ اقتدار کسی کا بھی لازمی حق نہیں۔ اقتدار مصلحت امتحان کے تحت کبھی ایک کو ملتا ہے اور کبھی دوسرے کو۔ مسلمان خدا کی اس اسکیم پر راضی نہیں۔ وہ اقتدار کو بھی اپنا ذاتی حق سمجھتے ہیں۔ اللہ نے اس دنیا کو امتحان گاہ بنایا تھا ۔ مگر مسلمانوں نے اس کو اپنے لئے حکومت گاہ سمجھ لیا۔۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ سوچ کی اسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر جگہ مسلمانوں کا رویہ غیر حقیقت پسندانہ ہو کر رہ گیا ہے۔ حضرت صالح نے اپنی قوم پر تبلیغ کا حق ادا کر دیا۔ مگر وہ نہیں مانے۔ آخر میں حضرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader