آغازِ کلام
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
صالح نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، میں نے تم کو اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تم کو نصیحت کی، مگر تم نصیحت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔ (وقال یا قوم لقد ابلغتکم رسالة ربی و نصحت لکم ولکن لا تحبون الناصحین، الاعراف ۹) اس سے معلوم ہوا کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو ناصح کو مبغوض سمجھے۔ دوسرا وہ جو ناصح کو محبوب سمجھے۔ جو لوگ اپنی ذات یا قوم کو برتر سمجھیں، ان کی نظر میں ناصح ایک مبغوض شخص بن جائے گا۔ اور جو لوگ حق کو بر تر مقام دیں، وہ ناصح کو محبوب سمجھیں گے۔ کیوں کہ ناصح ان کو ایک ایسی چیز کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جس کے متعلق وہ خود چاہتے ہیں کہ اس کی رہنمائی انہیں ملے۔ ۷ مئی ۱۹۹۳ قومی آواز (۷ مئی) میں مولانا اخلاق حسین قاسمی کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں میرے بارہ میں کہا گیا ہے کہ میں "فلسفہ سپائی" کا مبلغ ہوں۔ یہی میرے تمام مخالفین کا حال ہے۔ آج کل میری مخالفت بہت زور پر ہے۔ مگر ہر لکھنے اور بولنے والا یہی کہہ رہا ہے کہ میں مسلمانوں کو بزدلی اور سپائی سکھا رہا ہوں۔ جو لوگ ماہنامہ الرسالہ پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ الرسالہ میں جو بات بتائی جارہی ہے وہ صبر و اعراض ہے نہ کہ بزدلی اور سپائی۔ اس لئے مخالفین کو یہ کہنا چاہئے کہ الرسالہ فلسفۂ صبر کا مبلغ ہے۔ یہ کہنا سراسر خلاف واقعہ ہے کہ الرسالہ فلسفہ سپائی کی تبلیغ کر رہا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ ان مخالفین کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ میں نے کہا کہ ایسے مخالفین کا کیا جواب دیا جائے جن کے اندر اتنی ہمت (courage) بھی نہیں کہ وہ میری اصل بات کرلے کر اس پر اعتراض کریں۔ وہ خود ساختہ طور پر ایک بات میری طرف منسوب کرتے ہیں اور اس خود ساختہ الزام کو بنیاد بنا کر اپنے اعتراض کی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود ہی اپنے غلط ہونے کا اقرار کئے ہوئے ہیں، پھر ان کی غلطی کو مزید ثابت کرنے کی کیا ضرورت۔ ۸ مئی ۱۹۹۳ ایک مسلم پر چہ میں ایک مضمون پڑھا۔ مضمون یہاں سے شروع ہوا تھا " آج کل سلمان نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ساری دنیا میں غیظ و غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔" یہی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader