Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 71

By Maulana Wahiduddin Khan

بات تمام اردو، عربی، انگریزی کے مسلم پرچوں میں چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ وہی بات ہے جو یہود کے بارے میں لکھی ہوئی ہے ـــــــــ میں تم کو قوموں کے حوالے کر دوں گا، وہ تم کو جنگلی جانوروں کی طرح بھجوائیں گے۔ پھر میں تمہارے اوپر رحم نہیں کروں گا۔ یہ تمام تر خدائی معاملہ ہے نہ کہ انسانی معاملہ۔ ۱۹۹۳ مئی ۹ کچھ مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اقتداراران کا وراثتی حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں وہ تمام قوموں سے لڑرہے ہیں تاکہ ان سے اقتدار چھین کر دوبارہ اس پر قابض ہو جائیں۔ میں نے کہا کہ اقتدار کسی کا بھی ابدی حق نہیں ہے۔ اقتدار امتحان کا پر چہ ہے جو باری باری مختلف قوموں کو دیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی موجودہ لڑائی صاحب اقتدار قوموں سے نہیں ہے، وہ خود خدا سے ہے۔ وہ خدا کی اسکیم سے لڑ کر اس کو بدلنا چاہتے ہیں، حالانکہ کسی کے بس میں نہیں کہ وہ خدا کی اسکیم کو بدل سکے۔ ۱۹۹۳ مئی ۱۰ جمیل اختر صاحب مدینہ میں کام کرتے ہیں۔ آجکل چھٹی پر آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے ایک مولوی صاحب کو آپ کی کتاب تجدید دین پڑھنے کے لئے دی۔ اس کو پڑھنے کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا : سب بہنوات ہے۔ یہ شخص تو مجھے دشمنانِ اسلام کا ایجنٹ معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے مخالفین اکثر اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہیں۔ وہ بلا دلیل محض الزامی الفاظ بولتے ہیں۔ اس طرح کسی کو مطعون کرنے کی اسلام میں اجازت نہیں۔ کسی مومن کی عزت پر حملہ کرنا اسلام میں ناجائز ہے۔ اور اس قسم کے تبصرے بلا شبہ عزت پر حملہ کے ہم معنی ہیں۔ اختلاف جائز ہے مگر دشنام طرازی بلا شبہ حرام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page