Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی دہلی کے سہ ماہی مجلہ " اسلام اور عصر جدید " کے شمارہ اکتوبر ۱۹۹۲ میں ڈاکٹر سید عابد حسین پر ایک مضمون شائع ہوا ہے۔ اس میں ہندوستانی مسلمان کے بارے میں ان کے ایک مضمون کے کچھ حصے نقل کئے گئے ہیں۔ اس کا ایک جملہ یہ ہے: " اکثریت کے دل میں بے تعصبی، رواداری اور محبت کا ہونا اقلیت کے لیے سب سے بڑا تحفظ ہے۔" (نئی روشنی، ۱۶ جون (۱۹۲۸ یہ نہایت درست بات تھی جو ڈاکٹر سید عابد حسین نے ۱۹۲۸ میں کہی تھی۔ مگر مسلمانوں نے اس کو قبول کیا اور نہ خود سید عابد حسین اس کو مستقل مشن کے طور پر مسلمانوں میں جاری رکھ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک صحیح آواز آواز بہ صحرا ہو کر رہ گئی۔ ۱۲ مئی ۱۹۹۳ مولانا مختار احمد قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ وہ کوپاجنگ کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو ہمارے قصبہ کے کچھ مسلم نوجوان رات کو تلواریں لے کر نکلے۔ ایک سڑک پر ایک بوڑھا ہندو اکیلا چل رہا تھا، اس کو مار کر اس کا سرتن سے جدا کر دیا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ایک اور ہندو پر حملہ کیا۔ وہ زخمی ہو کر اسپتال میں داخل ہوا اور وہیں مر گیا۔ اس کے بعد پولیس نے سخت وحشیانہ کارروائی کی۔ وہ ۵۰ سے اوپر مسلمانوں کو پکڑ کر لے گئی اور ان کو اتنا مارا کہ ہاتھ پاؤں توڑ ڈالا۔ اب یہ لوگ مقدمات میں ملوث ہیں اور جائیدادیں بیچ کر مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ مسلم نوجوان اس طرح کا وحشیانہ جرم کیوں کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلم معاشرہ ہند و نفرت کا کار خانہ بن گیا ہے۔ ایک مسلمان لڑکا گھر سے لے کر مندر تک ہر جگہ ہندو نفرت کی باتیں سنتا ہے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ ہندو اتنے برے ہیں کہ ان کے خلاف جو بھی کرو سب جائز ہوگا۔ یہ بلاشبہ ناقابل معافی جرم ہے۔ اور اس جرم میں پورا مسلم معاشرہ شریک ہے۔ روز نامہ قومی آواز (۱۲ مئی) میں مسٹر شیم اختر کا ایک مضمون (خود شناسی کا سفر) چھپا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page