Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں وہ اپنا ایک ذاتی واقعہ اس طرح لکھتے ہیں: میری بھتیجی نے مجھے بتایا کہ اس کے دفتر میں ایک صاحب نے از راہ ہمدردی کہا کہ بی جے پی والوں سے بچ کر رہا نیکیوں کہ ان کا اصول ہے کہ ایک مسلمان لڑکی کو خراب کرنے سے سو گائے دان کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ موجودہ مسلم معاشرہ میں ہندو کے خلاف باتیں اس طرح ہوتی رہتی ہیں جیسے شہد کی مکھی کے چھتے میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کے دل میں ہندو کے خلاف نفرت بھر گئی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک سنگین جرم ہے جو موجودہ مسلمان ہر روز اپنے درمیان کر رہے ہیں۔ اس جرم کے مجرم صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو براہ راست اس میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ وہ لوگ بھی اس جرم میں پوری طرح شریک ہیں جو اس کو ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر وہ اس کو نہیں روکتے۔ ۱۲ مئی ۱۹۹۳ قومی آواز (۱۳ مئی) میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ـــــــــ ایک بزرگ مسلم خاتون نے مجھ کو بڑے فخر سے بتایا کہ جب وہ پاکستان سے ہندوستان واپس آرہی تھیں تو امرتسر کے ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی تلاشی شروع ہو گئی۔ مذکورہ خاتون فوراً اپلیٹ فارم پر قرآن شریف کی تلاوت کرنے بیٹھ گئیں۔ سپاہی نے انھیں بوڑھی اور نیک عورت سمجھ کر چھوڑ دیا۔ اور وہ اپنا سونا لانے میں کامیاب ہو گئیں۔ قرآن شریف کی افادیت پر ان کا ایمان پکا ہو گیا۔ (صفحہ ۳) مذکورہ خاتون نے سونا کو بچانے کے لئے قرآن کو استعمال کیا جو کہ صرف ملکی قانون میں جرم ہے۔ مگر ہمارے موجودہ قائدین کو قرآن کو اپنی جھوٹی لیڈری قائم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں جو بذات خود جرم ہے۔ یہ خوش نام قائدین مذکورہ بد نام عورت سے زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ ۱۵ مئی ۱۹۹۳ ایک ہندو بھائی نے کہا کہ مذہبی فرقوں کے درمیان ہم آہنگی لانے کی ایک ہی تدبیر ہے وہ یہ کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ تمام مذاہب مختلف ڈھنگ سے ایک ہی بڑی سچائی کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ یہ بات اس مفروضہ پر کہہ رہے ہیں گویا کہ ابھی اس ڈھنگ کی کوشش نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page