آغازِ کلام
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
کی گئی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے کئی سو سال سے اس کی کوششیں جاری ہیں۔ شہنشاہ اکبر نے سیاسی طاقت کے ذریعہ اس کو لانے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے مذاہب کے بارے میں اپنے انسائیکلو پیڈیا علم کو اس کے حق میں استعمال کیا۔ مہاتما گاندھی نے اس کی حمایت میں نہایت طاقت ور عوامی تحریک چلائی۔ مگر یہ ساری کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو کر رہ گئیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے اصل مسئلہ کوشش کے نتیجہ خیز نہ ہونے کا ہے نہ کہ خود کوشش نہ کرنے کا۔ ایسی حالت میں اب سوال سابقہ طرز کی ناکام کوشش کو زندہ کرنے کا نہیں ہے، بلکہ خود کوشش میں تبدیلی لانے کا ہے۔ ۱۶ مئی ۱۹۹۳ ۱۹۴۷ کے بعد بابری مسجد تحریک نے ہندوستانی مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، کسی اور تحریک نے نہیں پہنچایا۔ ۱۹۸۰ء میں میں نے اس مسئلے کے حل کے لئے ثالثی (Arbitration) کا اصول پیش کیا تھا۔ اس وقت سید شہاب الدین اس معاملہ میں مسلمانوں کے قائد بنے ہوئے تھے۔ انھوں نے میری تجویز کو رد کر دیا۔ اور اس کو چلنے نہیں دیا۔ ورنہ یہ مسئلہ نہایت باعزت طور پر حل ہو گیا تھا۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد نئے حالات کے مطابق میں نے تین نکاتی فارمولہ پیش کیا۔ تمام سمجھ دار لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فارمولا سب سے زیادہ معقول فارمولا ہے۔ مگر آج کل اس معاملہ میں مولانا ابوالحسن علی ندوی مسلمانوں کے قائد بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس فارمولے کو رد کر دیا ہے۔ دوبارہ یہ اندیشہ ہے کہ اس کا نتیجہ ملت کی تباہی کی صورت میں ظاہر ہو۔ ۱۸ مئی ۱۹۹۳ دہلی میں میواتیوں نے بہت سی ویران مسجدوں کو آباد کیا ہے۔ بہت سی مسجدیں جو ۱۹۴۷ میں ہندوؤں کے قبضہ میں چلی گئی تھیں، ان کو دوبارہ واگذار کیا ہے۔ یہ میواتی جن کو اکثر 'میاں جی' کہا جاتا ہے، وہ ان مسجدوں میں رہتے بھی ہیں اور کئی مسجدوں میں نماز اقامت کے ساتھ مدرسے بھی چلاتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میواتی لوگ مسجدوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader