آغازِ کلام
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کی بات مان لی جائے کہ یہ لوگ اپنے مفاد کے لئے مسجدوں پر قبضہ کر رہے ہیں تب بھی وہ مشہور مسلم قائدین سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ کیوں کہ یہ میواتی تو ذاتی فائدہ کے ساتھ مسجدوں کو آباد کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ جب کہ مشہور مسلم قائدین نے صرف ملت کی تباہی وبربادی میں اضافہ کیا ہے۔ ۱۸ مئی ۱۹۹۳ مولانابوالکلام آزاد کے مداح مولانا موصوف کے حافظہ کے بارے میں ایک قصہ بیان کرتے ہیں۔ مولانا آزاد سے م۔ اشرف کی ملاقات پہلی بار ۱۴ء میں کلکتہ میں ہوئی ۔ اس کے بعد ۲۰ سال تک ملاقات نہ ہوسکی ۔ ۱۹۵۳ میں جبکہ مولانا آزاد وزیرتعلیم تھے۔ م۔ اشرف دہلی آئے۔ اور مولانا آزاد سے ان کے سرکاری دفتر میں ملے۔ کہا جاتا ہے کہ جب م۔ اشرف مولانا آزاد کے دفتر میں داخل ہوئے تو مولانا نے برجستہ کہا۔ اشرف صاحب آئیے ، بیٹھیے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ واقعہ مولانا آزاد کے غیرمعمولی حافظہ کا ثبوت ہے۔ کہ چالیس سال گزرنے کے باوجود انھوں نے اشرف صاحب کو نام کے ساتھ خطاب کیا۔ اطہر صدیقی صاحب حکومت ہند کے پرسنل اسٹاف میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یہ بالکل سادہ سی بات ہے جس کو افسانہ بنا دیا گیا ہے۔ منسٹر سے کوئی شخص اس طرح نہیں ملتا کہ وہ آئے اور اچانک اس کے دفتر میں داخل ہو جائے۔ وہ پہلے ٹیلیفون کرتا ہے جس کو پرسنل اسٹاف کے لوگ ریسیو کرتے ہیں۔ ٹیلیفون پر اس کا پورا نام اور دیگر تفصیل لکھی جاتی ہے۔ اور پھر ٹیلیفون پر اس کو بتا یا جاتا ہے کہ وہ فلاں وقت آکر ملاقات کریں۔ پرسنل اسٹاف کے لوگ ہر روز ایک پیپر تیار کرتے ہیں کہ آج کون کون لوگ منسٹر سے ملاقات کریں گے۔ یہ پیپر ہر روز منسٹر کی میز پر رکھ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عام اور مصروف روٹین ہے۔ چنانچہ م۔ اشرف صاحب جب مولانا آزاد کے دفتر میں آئے ہوں گے تو اس سے پہلے انھوں نے اپنی میز پر رکھے ہوئے پیپر سے انھوں نے جان لیا ہوگا کہ کون شخص ان سے ملاقات کے لئے آرہا ہے۔ آج ہولی فیملی (دہلی) میں ہرنیا کا آپریشن ہوا۔ مجھے کئی سال سے دائیں جانب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader