آغازِ کلام
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
کچھ سوجن کی کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ جو کم یا زیادہ ہوتی رہتی تھی۔ مگر میں نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی۔ مگر تین ہفتہ پہلے دائیں پٹھے کے پاس ایک بڑا ابھار ظاہر ہوا اور اس میں درد رہنے لگا۔ کل میں نے ڈاکٹر ہدیو (ہوموپیٹھ ) کو دکھایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو کھلا ہوا ہر نیا کا کیس ہے آپ فوراً کسی سرجن سے ملئے ۔ کل ہی میں نے ہولی فیملی اسپتال میں ڈاکٹر میشوری کو دکھایا۔ انھوں نے بھی دیکھنے کے بعد کہا کہ یہ ہر نیا ہے ۔ اور فوراً اسپتال میں داخل کر لیا۔ یہاں میں کمرہ نمبر ۱۲۲ میں تھا۔ ۱۹ مئی کی صبح کو آپریشن ہوا۔ جسم کے نظام میں جب بھی کوئی خرابی واقع ہوتی ہے تو پنچر مختلف شکلوں میں اس کا سنگل دینا شروع کرتی ہے۔ اگر آدمی فطرت کے اس ابتدائی انتباہ کو سمجھ لے تو بروقت احتیاطی تدبیر اختیار کر کے زیادہ بڑے نقصان سے بچ سکتا ہے۔ ۲۰ مئی ۱۹۹۳ آپریشن کے سلسلہ میں میں تین دن اسپتال میں رہا۔ اس دوران میرے ذہن میں خیال آیا کہ مسلمان میں سرجن بہت کم ہوتے ہیں۔ میں نے ڈاکٹر ظفر الاسلام سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں محنت کا مزاج نہیں۔ سرجن بننا بہت محنت کا کام ہے۔ تعلیم کے اعتبار سے بھی اور پیشہ کے اعتبار سے بھی مسلمان زیادہ محنت کرنا نہیں چاہتے اس لئے وہ سرجری کی تعلیم میں بھی زیادہ نہیں جاتے۔ ۲۱ مئی ۱۹۹۳ تاریخ کے عجیب واقعات میں سے ایک عجیب واقعہ یہ ہے کہ جب خالص صراط مستقیم کی طرف دعوت دی جائے تو بہت کم ساتھ دینے والے ملتے ہیں۔ مگر جو لوگ صراط مستقیم سے ہٹ کر کوئی بات کہتے ہیں یا کوئی منحرف فکر پیش کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو ہمیشہ بڑے بڑے ذہن مل جاتے ہیں جو ان کے ساتھ تعاون کریں۔ عراق اور کویت کے درمیان جنگ کے بعد فلسطینی تحریک بے جان ہو کر رہ گئی ہے اس کی وجہ مالیاتی بحران ہے۔ کویت اور دوسرے عرب ملکوں میں جو فلسطینی کام کرتے تھے، ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader