آغازِ کلام
Urdu book, p. 77
By Maulana Wahiduddin Khan
ذریعہ فلسطین آنے والی تقریباً ۴۵ کروڑ ڈالر کی رقم بند ہوگئی۔ اس کے علاوہ خلیج کے ممالک فلسطینی تحریک کو جو امداد ی رقم دیتے تھے وہ اب برائے نام رہ گئی ہے۔ کیوں کہ اس میں ۵۷ کروڑ ڈالر سالانہ کی کلوتی کردی گئی ہے (قومی آواز ۲۲ مئی ۱۹۹۳) فلسطینیوں نے خلیج کی جنگ میں عراق کا ساتھ دیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں یہ مالی نقصان ان کے حصہ میں آیا ہے۔ جو فلسطینی لیڈر حالات کو سمجھنے کے لئے اتنے زیادہ نااہل ہوں، وہ کوئی کامیاب تحریک کس طرح چلا سکتے ہیں۔ ۲۳ مئی ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ زندگی پتہ نہیں کب ختم ہوگی۔ ایک ایک لمحہ اس کا مصیبت معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ تو بڑی ناشکری کی بات ہے۔ ایسی بات آدمی کو کبھی نہیں کہنا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زندگی کا ہر لمحہ ایک عظیم ترین نعمت ہے۔ کیوں کہ آج کے ہر لمحہ کی قیمت ہزاروں سال سے بھی زیادہ مدت تک ملنے والی ہے۔ فرض کیجئے کہ آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ "خدایا میری تخلیق کو با معنی بنا دے۔" یہ ایک چھوٹا سا جملہ ہے جس کو کہنے میں ایک منٹ بھی نہیں لگتا۔ مگر وہ بے حد قیمتی ہے۔ اور یہ قیمتی جملہ کہنے کا موقع صرف موجودہ دنیا میں ہے۔ موجودہ دنیا کے بعد اس جملہ کو کہنے کا موقع کسی کو بھی دوبارہ ملنے والا نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ دن پر دن گزر رہے ہوں مگر کوئی معرفت کی بات آپ کے ذہن میں نہ آتی ہو۔ پھر بھی یہ دن بیکار نہیں گزر رہے ہوں گے۔ اس وقت آپ کا ذہن پر اس کے مرحلہ سے گزر رہا ہے۔ آئندہ کسی وقت آپ کو ایک عظیم معرفت کا تجربہ ہو سکتا ہے۔ بظاہر یہ تجربہ وقتی ہوگا۔ لیکن یہ پچھلے تمام ایام میں شامل ہونگے کیوں کہ انھیں ایام کے ذہنی عمل کے آخری نتیجہ کے طور پر یہ معرفت آپ کو حاصل ہوئی۔ دنیا میں تقریباً نو ہزار قسم کی چڑیاں پائی جاتی ہیں۔ انڈیا میں ۱۲ سو قسم کی چڑیاں ملتی ہیں اور دہلی میں تقریباً ڈھائی سو قسم کی چڑیاں شمار کی گئی ہیں۔ چڑیوں کا مشاہدہ کرنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader