آغازِ کلام
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں ایک مستقل فن ہے جس کو عام طور پر برڈٹنگ (bird watching) کہا جاتا ہے۔ حدیث میں ایک صحابی کی روایت ہے کہ ایک چڑیا بھی اگر فضا میں اپنے دونوں پروں سے اڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہمیں نصیحت کی یاد دہانی فرماتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ برڈٹنگ ایک عین اسلامی عمل ہے۔ البتہ اسلامی برڈٹنگ نصیحت و تذکیر کے لئے ہوتی ہے نہ کہ محض تفریحی مشغلہ کے لئے۔ ۲۵ مئی ۱۹۹۳ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے لوگوں کو حق کا پیغام دیا تو آپ کے مخالفین نے آپ کے ساتھ جو معاملہ کیا اس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے : وقال الذین کفر و الا تسمعو الہذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون۔ یعنی قرآن کی باتوں پر دھیان نہ دو اور اس میں عیب نکالو، اس طرح تم اس پر غالب آجاؤ گے۔ آجکل میرے مخالفین بھی میرے ساتھ ٹھیک یہی معاملہ کر رہے ہیں۔ میں جو بات بھی کہتا ہوں قرآن و حدیث کی واضح دلیل کی بنیاد پر کہتا ہوں۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ پیش کردہ دلائل پر دھیان نہیں دیتے اور نہ اس پر سنجیدگی سے غور کرتے۔ اس کے بجائے وہ یہ کرتے ہیں کہ خود ساختہ طور پر کوئی عیب کی بات نکالیں گے اور اس کو لوگوں میں پھیلانا شروع کر دینگے۔ یہ ایک غیر سنجیدہ روش ہے اور جو لوگ غیر سنجیدہ روش میں مبتلا ہوں وہ اخروی ہدایت کا راستہ نہیں پاتے۔ ۲۶ مئی ۱۹۹۳ آدمی کی مدت حیات کا سب سے زیادہ سنگین لمحہ وہ ہے جس کو موت کہا جاتا ہے۔ موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ اگلے مرحلہ زندگی کا آغاز ہے۔ موت وہ لمحہ ہے جب کہ آدمی اس دنیا سے منتقل ہو کر اُس دنیا میں جاتا ہے۔ یہ عمل کے مرحلہ سے نکل کر انجام کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔ مزید یہ کہ کسی کو بھی پیشگی طور پر نہیں معلوم کہ اگلی دنیا میں اس کے عمل کا انجام اسے کس صورت میں لوٹایا جانے والا ہے۔ معاملہ کی یہ نوعیت اس کو سنگینی کی اس آخری حد تک پہنچادیتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader