آغازِ کلام
Urdu book, p. 79
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جس کے بعد سنگینی کا مزید کوئی درجہ نہیں۔ رسالہ کا شمارہ جولائی ۱۹۹۳ ایک خاص نمبر ہوگا۔ اس کا عنوان ہوگا علماء اور دور حاضر۔ اس شمارہ میں پچھلے تین سو سال کے دوران علماء کی ملی سرگرمیوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے ۔ موجودہ مسلمان تنقید سے بہت زیادہ بھاگتے ہیں۔ حالانکہ تنقید کے بغیر کوئی حقیقی تعمیر نہیں ہو سکتی۔ اس پس منظر کی رعایت کرتے ہوئے جولائی کے شمارہ کے صفحہ اول کے لئے میں نے حسب ذیل مضمون لکھ کر دیا ہے: مستقبل کی کامیاب منصوبہ بندی صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو ماضی اور حال کا تنقیدی جائزہ لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں ۲۸ مئی ۱۹۹۳ ہر چیز کا ایک کروڈ (crude) فارم ہوتا ہے۔ اور اس کا ایک ریفائینڈ (refined) فارم ۔ کسی چیز کے کروڈ فارم میں امکانی طور پر اس کا ریفائینڈ فارم ہمیشہ چھپا ہوا ہوتا ہے جیسے کہ پہلے زمانہ کی بھدی موٹر کار میں موجودہ زمانہ کی خوبصورت موٹر کار امکانی طور پر چھپی ہوئی تھی۔ دنیا اور آخرت کے معاملہ کو اسی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دنیا گویا اسی چیز کا کروڈ فارم ہے جس کے ریفائینڈ فارم کو جنت کہا گیا ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ ساری چیزیں موجود ہیں جن کے مجموعہ کا نام جنت ہے۔ مگر آج وہ سب کی سب اپنی کروڈ فارم میں ہیں۔ آخرت میں ان چیزوں کو آخری ریفائینڈ صورت دے دی جائے گی۔ اس کے بعد ایک ایسی معیاری دنیا بنے گی جو لذت اور نفاست اور معنویت کی ابدی بہشت ہوگی۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں، اس معیاری دنیا میں داخلہ کی ایک ہی لازمی شرط ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اس معیاری شخصیت کا حامل ہو جو اس معیاری دنیا میں بسائے جانے کی اہل ہو۔ اسی معیاری شخصیت کو قرآن میں نفسِ مزکیٰ کہا گیا ہے۔ جنت ایک پاک جگہ ہے اور صرف پاک روحیں وہاں بسائی جائیں گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader