Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا جلال الدین رومی کا شعر ہے کہ قدیم عمارت کو جب از سر نو آباد کرنا ہوتا ہے تو پہلے اس کی قدیم عمارت کو ڈھا دیا جاتا ہے : گفت رومی ہر بنائے کہنہ کا باداں کنند می نہ دانی اول آن بنیاد را ویران کنند اس وقت ساری دنیا اور انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ مجھے اسی نوعیت کا ایک عمل معلوم ہوتا ہے۔ یہ ان کے جمود کو توڑنا ہے۔ یہ اس لیے ہے تا کہ ملت مسلمہ کا جامد پانی دوبارہ متحرک ہو کر سیل رواں بن سکے۔ ۳۰ مئی ۱۹۹۳ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمرانوں کو میں دیکھتا ہوں اور ان کے احوال کو پڑھتا ہوں تو اکثر نہایت درد کے ساتھ یہ الفاظ میری زبان پر آجاتے ہیں : یہ ظالم صرف اس پر بھی قانع نہیں کہ انھیں عیش و آرام کی زندگی حاصل ہو۔ اسی کے ساتھ وہ سرکشی بھی کرنا چاہتے ہیں ، خواہ اس کے نتیجہ میں پورا ملک تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ ۳۱ مئی ۱۹۹۳ ۲۹۔ ۳۰ مئی ۱۹۹۳ کو میں اندور میں تھا۔ آج وہاں سے واپس آیا۔ وہاں ایک آل انڈیا سمینار تھا جس میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو جمع ہوئے۔ دو روزہ تقریروں کے بعد آخری دن ایک منتخب کمیٹی نے ایک تجویز ( ڈ یڈ یکلیشن ) تیار کر کے اس کو آخری اجلاس میں پڑھا تو اتنا اختلاف ہوا کہ متعین بات ہی طہ نہ ہوسکی۔ یہاں تک کہ لوگ کھانے کے لئے اٹھ گئے۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہماری تمام تحریکوں نے صرف بولنے والے افراد پیدا کئے ہیں۔ حالانکہ کسی حقیقی کام کو کرنے کے لئے ایسے افراد کی ضرورت ہے جو الفاظ رکھتے ہوئے چپ ہو جائیں ، جمیز زبان رکھتے ہوئے نہ بولیں۔ اندور میں پہلی بار بابا آمٹے ( پیدائش ۱۹۱۴ ) سے میری ملاقات ہوئی۔ یکم جون ۱۹۹۳ بمبئی کے ماہنامہ البلاغ ( جون ۱۹۹۳ ) میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس میں دکھایا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page