Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

گیا ہے کہ مسلمانوں کے لئے حصول اقتدار اور خلافت کا قیام ضروری ہے۔ کیوں کہ اس کے بغیر اسلامی احکام نافذ نہیں ہو سکتے۔ اس سلسلہ میں ایک دلیل یہ دی گئی ہے : " صرف قانون بنا دینے، یا صرف وعظ ونصیحت سے برائیاں دور نہیں ہوتیں۔ قانون کے نفاذ کے لئے قوت نافذہ ضروری ہے اور قوت نافذہ سلطان (نظام خلافت) ہی ہو سکتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جو برائی قرآن سے دور نہیں ہوتی اسے اللہ تعالی سلطان (حکومت) کے ذریعہ دور کر دیتا ہے۔ (القرآن والسلطان) یہ غیر سنجیدہ استدلال کی ایک مثال ہے۔ صاحب مضمون اگر سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے تو ان کی سمجھ میں آتا کہ حضرت عثمان کے پاس اقتدار تو اپنی کامل صورت میں موجود تھا۔ اس کے باوجود دین انھیں کے زمانہ میں نظام اسلامی میں اتنا خلل آیا کہ لا قانونیت کی صورت پیدا ہو گئی۔ اور حضرت عثمان خلیفہ ہونے کے باوجود اس پر قابو نہ پا سکے۔ صاحب مضمون اگر اس طرح غور کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ خلیفہ سوم کا یہ قول محدود معنی (limited sense) میں ہے نہ کہ کلی مفہوم (absolute sense) میں۔ نیز اس میں یہ بات تو سرے سے موجود ہی نہیں کہ مسلمان سیاسی تحریک چلا کر اقتدار پر قبضہ کریں تاکہ وہ قوانین اسلامی کو نافذ کر سکیں۔ ۲ جون ۱۹۹۳ حضرت عمر فاروق کا یہ حال تھا کہ جب رات ہو جاتی تو وہ اپنے پاؤں پر درہ مارتے اور اپنے آپ سے کہتے کہ تونے آج کے دن کیا کام کیا۔ (عمر بن الخطاب كان يضرب قدمين بالدرة اذا جن الليل ويقول لنفسه: ماذا عملت اليوم ۔ (ماہنامہ الاسلامی جون ۱۹۹۳، صفحه ۵۰) اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عمر کوئی عمل نہیں کرتے تھے اور سارا دن یوں ہی گزار دیتے تھے۔ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ وہ سرا پا عمل تھے۔ ان کی زندگی کا کوئی بھی دن بے عملی میں نہیں گذرا۔ ان کا مذکورہ طریقہ مونانہ نفسیات کی بنا پر تھا نہ کہ عمل نہ کرنے کی بنا پر۔ اصل یہ ہے کہ مومن کی نظر ہمیشہ اپنے نے کئے پر ہوتی ہے اور منافق کی نظر اپنے کئے پر۔ یہی وجہ ہے کہ مومن ہمیشہ اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا۔ اس کے برعکس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page