Urdu book · ڈائری ۱۹۹۳–۱۹۹۴

آغازِ کلام

Urdu book, p. 82

By Maulana Wahiduddin Khan

منافق کے پاس اپنے اعمال کا لمبا دفتر موجود ہوتا ہے جس کو وہ ہر مجلس میں بیان کرتا ہے۔ کویت کے عربی ماہنامہ الوعی الاسلامی (ذی الحجہ ۱۴۱۳ھ، جون ۱۹۹۳ء) میں صفحہ ۱۰۶ پر ایک رپورٹ چھپی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ۱۹۹۱ء۔ ۱۹۹۰ کی خلیجی جنگ میں عربوں کو جو نقصان ہوا اس کی مقدار ۶۲۷ بلیئن ڈالر ہے۔ (غزو الكويت كلف العرب خسارة ۶۲۷ بليون دولار) اس مالی خسارہ میں تقریبًا نصف عراق کا حصہ ہے اور بقیہ نصف کویت کا۔ یہ صرف ایک ضیاع تھا۔ اس کا کوئی بھی فائدہ عربوں کو ملنے والا نہیں۔ اگر خلیجی جنگ سے پہلے عراق اور کویت سے کہا جاتا کہ ۶۲۷ بلیئن ڈالر کا فنڈ قائم کر کے ایک انٹرنیشنل دعوة سنٹر بناؤ تو بظاہر حالات وہ کبھی اس کے لئے تیار نہ ہوتے۔ جب کہ اس دوسری صورت میں اس رقم کا فائدہ اتنا زیادہ تھا کہ وہ موجودہ دور میں اسلام کی ایک نئی تاریخ ظہور میں لانے کا ذریعہ بن جائے۔ ۴ جون ۱۹۹۳ء بابا آٹے کو میں نے پہلی بار اندرور میں دیکھا۔ دو دن تک ان کا ساتھ رہا۔ وہ نیم برہنہ حالت میں رہتے ہیں۔ ان کے جسم پر جگہ جگہ آپریشن کے نشانات تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے اوپر ۱۶ میجر آپریشن ہو چکے ہیں۔ مائنر آپریشن کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔ ان کے سینہ پر ایک طرف ابھار دیکھ کر میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ پیس میکر (pace maker) ہے جو آپریشن کر کے کھال کے نیچے لگایا گیا ہے۔ ایک ایکسیڈنٹ کے نتیجہ میں وہ بیٹھ نہیں سکتے۔ وہ یا لیٹے رہتے ہیں یا کھڑے رہتے ہیں اور چلتے رہتے ہیں۔ عمر میں وہ مجھ سے دس سال بڑے ہیں۔ اس وقت وہ بھی زیر علاج ہیں، اور ڈاکٹروں کے مشورہ کے خلاف اندور آئے ہیں۔ ان سب کے باوجود میں نے دیکھا کہ وہ ہر وقت نشیط رہتے ہیں، ہر وقت چاق و چوبند نظر آتے ہیں۔ دوسری طرف میرا یہ حال ہے کہ میرا ہرنیا کا آپریشن ۱۹ مئی ۱۹۹۳ کو ہوا۔ ہرنیا کا آپریشن ایک مائنر آپریشن یا روٹین کا آپریشن سمجھا جاتا ہے۔ مگر دو ہفتہ بعد بھی میرا یہ حال ہے کہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page