آغازِ کلام
Urdu book, p. 83
By Maulana Wahiduddin Khan
نزار اور نڈھال بستر پر پڑا ہوا ہوں۔ میرے جیسے کمزور انسان کو خدا نے کیوں پیدا کیا۔ شاید مجھ سے زیادہ کمزور انسان دنیا میں اور کوئی نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے خیال آیا کہ خدا نے دوسرے انسانوں کو اس طرح بنایا کہ وہ باطن عاجز مگر بظاہر طاقت ورتھے۔ اس ظاہری حالت کی بنا پر ہر آدمی طاقت کے فریب میں رہا، وہ حقیقت عجز کا ادراک نہ کر سکا۔ پھر خدا نے میرے جیسے ایک انسان کو پیدا کیا، جو باطن بھی عاجز تھا اور بظاہر بھی عاجز۔ اس طرح خصوصی تخلیق کے ذریعہ خدا نے مجھے عجز کا تجربہ کرایا تا کہ میں خود بھی عجز انسانی کی معرفت حاصل کروں اور دوسروں کو اس حقیقت سے آگاہ کروں۔ ۵ جون ۱۹۹۳ ایک صاحب نے کہا کہ لوگ آپ کو ایسا اور ایسا کہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بتائیے کہ ہماری قوم میں کون وہ شخص ہے جس کو ایسا اور ایسا نہیں کہا گیا۔ اس قوم نے شاہ ولی اللہ کو زندیق کہا اور آج انھیں کو سب سے بڑا عالم سمجھا جاتا ہے۔ اس قوم نے سرسید کو انگریز کا ایجنٹ کہا۔ اور آج انھیں کو قوم کا سب سے بڑا محسن بتایا جاتا ہے۔ اس قوم نے اقبال کو انگریز کا نمک خوار کہا اور آج وہ مفکرِ اسلام کی فہرست میں نمبر ایک پر لکھے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا حسین احمد مدنی کو کانگریس کا پٹھو کہا اور آج وہ شیخ الاسلام قرار دیئے جاتے ہیں۔ اس قوم نے مولانا ابوالکلام آزاد کو شو بوائے کہا اور آج وہ دورِ جدید کی سب سے بڑی اسلامی شخصیت شمار کئے جاتے ہیں۔ مسٹر محمد علی جناح کا انتقال ہوا تو ان کی تاریخِ وفات “مُرگیا مردود فاتحہ نہ درود سے” نکالی گئی۔ اور آج وہ قائدِ اعظم کا مقام حاصل کئے ہوئے ہیں۔ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ یہ قوم زندہ کی بے قدری کرتی ہے اور مردہ کو پوجتی ہے۔ یہی سیکڑوں سال سے ہو رہا ہے۔ پھر میرے معاملے میں استثناء کیوں ہو سکتا ہے۔ اس وقت ساری مسلم دنیا میں نہایت تیزی کے ساتھ گن کلچر پھیل رہا ہے۔ مسلم اکثریت کے ملکوں میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے نام پر؛ جیسے مصر، الجزائر، وغیرہ۔ اور مسلم اقلیت کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader